🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ أَخِيهِ مَا يُحِبُّ فَلْيُبَرِّكْ .
جب تم میں سے کوئی اپنے آپ میں یا اپنے بھائی میں کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو برکت کی دعا دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7688
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي (1) ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن المَدِيني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن دُوَيد (2) ، عن إسماعيل بن ثَوْبان، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"العَيْنُ حَقٌّ تَستَنزِلُ الحالِقَ (3) " (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7498 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: نظر برحق ہے۔ یہ بہت تیز اثر کرتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7688]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7689
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن عبد الله بن عيسى، عن أُميّة بن هِنْد، عن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا رأى أحدُكم من نفسِه وأخيه ما يُعجِبُه، فَلْيَدْعُ بالبَرَكة، فإنَّ العينَ حقٌّ" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بذكر البَرَكة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7499 - صحيح
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنے آپ میں، یا اپنے بھائی میں کوئی اچھی چیز دیکھے تو اس کو چاہیے کہ برکت کی دعا مانگے، کیونکہ نظر برحق ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو برکت کے ذکر کے ساتھ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7689]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7690
أخبرنا علي بن عيسى الحيري، حدثنا محمد بن عمرو بن النَّضر الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع بن الجرَّاح بن مَلِيح، حدثنا أَبي (1) ، عن عبد الله بن عيسى، عن أميّة بن هند بن سعد بن سهل بن حُنَيف، عن عبد الله بن عامر ابن رَبيعة قال: خرج سهلُ بن حُنَيف ومعه عامرُ بن ربيعة يريدان الغُسلَ، فانتَهَيا إلى غَدِير، فخرج سهل يريد الخَمَرَ -قال وكيع: يعني به السِّتْر- حتى إذا رأى أنه قد نَزَعَ جُبَّةً عليه من صُوف فوضعها ثم دخل الماء، قال: فنظرتُ إليه فأصبتُه بعَيْني، فسمعتُ له قَرقَفةً في الماء، فأتيته فناديته ثلاثًا، فلم يُجِبْني، فأتيتُ النبيَّ ﷺ فأخبرتُه، فجاء يمشي، فخاضَ الماءَ حتى كأنِّي أنظُرُ إلى بياضِ ساقَيه، فضربَ صدَره، ثم قال:"اللهمَّ أذهِبْ عنه حَرَّها وبَرْدَها ووَصَبَها"، فقام، فقال النبيُّ ﷺ:"إذا رأى أحدُكم من نفسه أو ماله أو أخيه، ما يُحِبُّ، فليُبرك، فإنَّ العينَ حقٌّ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7500 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں: سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سیدنا عامر بن ربیعہ کے ہمراہ نہانے کے لیے باہر گئے، یہ دونوں ایک حوض پر پہنچے، سیدنا سہل نے پردہ کر کے اپنے اوپر سے اون کا جبہ اتار کر قریب رکھ دیا اور پانی میں گھس گئے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے ان کو دیکھا، ان کو میری نظر لگ گئی، میں نے پانی میں اس کی کپکپی کی آواز سنی، میں اس کے پاس آیا، تین مرتبہ اس کو آواز دی لیکن اس نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، میں بھاگتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ سنایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فوراً! میرے ساتھ چلتے ہوئے وہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں غوطہ لگایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باہر نکالا) اس کے سینے کو ملا اور یہ دعا مانگی اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرِّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا ۔ اے اللہ اس سے اس کی گرمی اور سردی اور اس کے درد کو دور فرما دے۔ یہ دعا مانگتے ہی وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے آپ میں یا اپنے مال میں یا اپنے بھائی میں کوئی بھی پسندیدہ چیز دیکھے اس کو چاہیے کہ فوراً برکت کی دعا مانگے، کیونکہ نظر برحق ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7690]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7691
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني حَيْوة، عن خالد بن عُبيد المَعَافري، عن مِشرَح بن هاعان، أنه سمع عُقبة بن عامر يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن عَلَّقَ تَمِيمةً، فلا أتمَّ اللهُ له، ومن عَلَّقَ وَدَعةً، فلا وَدَعَ اللهُ له" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7501 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے تمیمہ (بتوں کی چھوٹی چھوٹی مورتیاں، جو زمانہ جاہلیت کے اپنی حفاظت کے لیے پہنتے تھے) لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس (کے مقصد) کو پورا نہ کرے۔ اور جس نے گھونگا (ایک قسم کے دریائی کیڑے کو خول جو ہڈی کے مانند سیپی یا سنگھ کی قسم سے ہے) لٹکایا اللہ تعالیٰ اس کو نہ چھوڑے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7691]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں