🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. إذا رأى أحدكم من نفسه أو أخيه ما يحب فليبرك .
جب تم میں سے کوئی اپنے آپ میں یا اپنے بھائی میں کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو برکت کی دعا دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7689
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن عبد الله بن عيسى، عن أُميّة بن هِنْد، عن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا رأى أحدُكم من نفسِه وأخيه ما يُعجِبُه، فَلْيَدْعُ بالبَرَكة، فإنَّ العينَ حقٌّ" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بذكر البَرَكة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7499 - صحيح
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنے آپ میں، یا اپنے بھائی میں کوئی اچھی چیز دیکھے تو اس کو چاہیے کہ برکت کی دعا مانگے، کیونکہ نظر برحق ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو برکت کے ذکر کے ساتھ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7689]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7689 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أمية بن هند مجهول الحال. وأخرجه ابن ماجه (3506)، والنسائي (7469) و (9968) و (10805) من طريق معاوية ابن هشام، عن عمار بن رزيق بهذا الإسناد. ورواية ابن ماجه، مختصرة، وروايتا النسائي مطولتان بنحو رواية المصنِّف التالية.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند امیہ بن ہند کے مجہول الحال ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3506) اور نسائی (7469)، (9968) اور (10805) نے معاویہ بن ہشام کے طریق سے، انہوں نے عمار بن رزیق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ کی روایت مختصر ہے جبکہ امام نسائی کی دونوں روایتیں مصنف کی اگلی روایت کی طرح تفصیلی ہیں۔
وانظر ما سلف برقم (5847).
📖 حوالہ / مصدر: اس کے متعلق سابقہ رقم (5847) ملاحظہ فرمائیں۔