🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. أمسك النبى عن بيعة رجل فى عضده تميمة
نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے بیعت لینے سے ہاتھ روک لیا جس کے بازو پر تعویذ بندھا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7702
حدثني طاهر بن محمد (6) بن الحسين البيهقي بيحي آباد، حدثنا خالي الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا الليث بن سعد، حدثني زِيادة (1) بن محمد الأنصاري، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن فَضَالة بن عُبيد أنه قال: جاء رجلانِ من أهل العراق يَلتَمسانِ الشِّفاءَ لأَبٍ لهما حُبِسَ بَوْلُهُ، فَدَلَّه القومُ على فَضَالة، فجاء الرجلان ومعهما، فَضَالة، فذَكَرا الذي بأبيهما، فقال فضالة: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَنِ اشتكى منكم شيئًا -أو اشتكى أخٌ له- فليقل: ربَّنا الذي في السَّماءِ تقدَّسَ اسمُك، أمرُك في السماءِ والأرض، كما رحمتك في السماء والأرض، اغفِرْ لنا حُوبَنا وخَطايانا يا ربَّ الطَّيِّبِينَ، أَنزِلْ شِفاءٌ من شِفائِكَ ورحمةً من رحمتِكَ على هذا الوَجَعِ، فيبرأَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7512 - صحيح
سیدنا فضالہ بن عبید فرماتے ہیں: اہل عراق سے دو آدمی اپنے والد کے لیے شفاء تلاش کرتے ہوئے آئے، اس کا پیشاب رک گیا تھا، کسی شخص نے ان کو سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کا بتا دیا۔ وہ دونوں آدمی سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی بھی قسم کی بیماری ہو یا اس کا کوئی بھائی بیمار ہو اس کو چاہیے کہ یوں دعا مانگے۔ رَبَّنَا الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمَرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حَوبَنَا وَخَطَايَانَا يَا رَبَّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ شِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ وَرَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ فَيَبْرَأْ اے میرے رب! وہ جو آسمانوں میں ہے، تیرا نام پاکیزہ ہے، تیرا حکم زمین اور آسمان میں چلتا ہے، جیسا کہ تیری رحمت آسمانوں اور زمینوں میں ہے، ہمارے گناہ اور ہماری خطائیں معاف فرما، اے طیبین کے رب، اس درد پر اپنی شفاء میں سے شفاء نازل فرما، اور اپنی رحمتوں میں سے رحمت نازل فرما وہ شخص ٹھیک ہو جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7702]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7702 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(6) كذا في النسخ الخطية، وسبق عند المصنف في موضعين سمّاه فيهما: طاهر بن يحيى، فلعلَّ لفظ "محمد" تحرَّف عن يحيى، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں اسی طرح ہے، مگر مصنف نے پہلے دو جگہوں پر اسے "طاہر بن یحییٰ" لکھا ہے، غالب گمان ہے کہ "محمد" کا لفظ "یحییٰ" سے بدل گیا ہے۔
(1) في النسخ الخطية: زياد.
📝 نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں یہاں "زیاد" لکھا گیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًا لضعف زيادة بن محمد الأنصاري، والمعروف في هذا الحديث أنه من رواية فضالة بن عبيد عن أبي الدرداء، هكذا رواه جمع عن سعيد بن أبي مريم، وإسقاط أبي الدرداء هنا وجعلُه من حديث فضالة بن عبيد وهمٌ، إما من الفضل بن محمد بن المسيب أو ممّن دونه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "سخت ضعیف" ہے کیونکہ زیادۃ بن محمد الانصاری ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: درست روایت فضالہ بن عبید کی ابو الدرداء سے ہے، یہاں ابو الدرداء کا نام گرا کر اسے صرف فضالہ کی حدیث بنانا وہم ہے جو کسی راوی سے سرزد ہوا ہے۔
فقد أخرجه الدارمي في "الرد على الجهمية" (70)، وفي الرد على المريسي" 1/ 514، وأخرجه النسائي (10810) عن أحمد بن سعد بن الحكم، واللالكائي في" أصول الاعتقاد" (647) من طريق إسحاق بن إبراهيم بن جابر ثلاثتهم (الدارمي وأحمد وإسحاق) عن سعيد بن الحكم بن أبي مريم، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد، بذكر أبي الدرداء.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام دارمی، نسائی (10810) اور لالکائی نے صحیح طور پر "ابو الدرداء" کے ذکر کے ساتھ سعید بن ابی مریم کے طریق سے لیث بن سعد سے روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه غير سعيد بن أبي مريم عن الليث بذكر أبي الدرداء كما سلف عند المصنف برقم (1288).
📖 حوالہ / مصدر: سعید بن ابی مریم کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی لیث سے اسے "ابو الدرداء" کے ذکر کے ساتھ ہی روایت کیا ہے جیسا کہ رقم (1288) پر گزرا۔