🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. إن الله - تعالى - لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم
بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جو تم پر حرام کی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7701
أخبرني عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن نصر، حدثنا حَرَميُّ بن حَفْص (3) ، حدثنا عبد العزيز بن مسلم (4) ، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: أتتِ امرأةٌ النبيَّ ﷺ، فذكرت أنَّ بها طَيْفًا من الشيطان، فقال رسول الله ﷺ:"إن شئتِ دعوتُ الله ﷿ فبرَّأَكِ، وإنْ شئتِ، فلا حسابَ ولا عذابَ" قالت: يا رسولَ الله، فدَعْني إذًا (5) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7511 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی اور بتایا کہ اس کو شیطانی خیالات بہت آتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں، تم ٹھیک ہو جاؤ گی، اور اگر چاہو (اس کو اسی طرح رہنے دو،) تم سے نہ حساب لیا جائے گا اور نہ تمہیں عذاب ہو گا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ہے، اس کو رہنے دیجیے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7701]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7701 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرّف في (ز) و (ب) إلى حصن، وفي (ص) و (م) إلى: حصين.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ نام "حصن" اور نسخہ (ص) و (م) میں "حصین" تحریف ہو گیا ہے۔
(4) تحرّف في النسخ الخطية إلى: معلم.
📝 نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں یہ لفظ غلطی سے "معلم" لکھا گیا ہے۔
(5) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے، اور محمد بن عمرو (ابن علقمہ اللیثی) کی وجہ سے سند "حسن" کے درجے پر ہے۔
إبراهيم بن نصر: هو ابن عبد العزيز الرازي، وعبد العزيز بن مسلم: هو القَسملي البصري.
📌 اہم نکتہ: ابراہیم بن نصر سے مراد ابن عبد العزیز الرازی اور عبد العزیز بن مسلم سے مراد القسملی البصری ہیں۔
وأخرجه أحمد 15 / (9689)، وابن حبان (2909) من طريق محمد بن عبيد؛ وقرن به ابن حبان في روايته عبدة بن سليمان كلاهما عن محمد بن عمرو بن علقمة بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9689) اور ابن حبان (2909) نے محمد بن عبید کے طریق سے روایت کیا ہے، اور ابن حبان نے ان کے ساتھ عبدہ بن سلیمان کو بھی شامل کیا ہے۔
ويشهد له حديث ابن عباس عند البخاري (5652)، ومسلم (2576).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابن عباس کی صحیحین (بخاری 5652، مسلم 2576) والی روایت اس کی تائید کرتی ہے۔