🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. لا بأس بالعرجاء إذا بلغت المنسك .
لنگڑے جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں اگر وہ خود چل کر ذبح گاہ تک پہنچ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7724
أخبرنا أبو بكر بن عتَّاب، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، أخبرنا وهب بن جَرير (1) ، حدثنا أبي، عن أبي إسحاق، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن حُجَيَّة بن عَديّ: أنَّ رجلًا سأل عليًّا عن البقرة، فقال: عن سبعة، قال: القَرْن (2) ؟ قال: لا يضرُّك، قال: العَرْجاءُ؟ قال: إذا بَلَغَتِ المَنْسَكَ، قال: وكان رسولُ الله ﷺ أمرَنا أن نَستشرِفَ العينَ والأُذن (3) . رواه سفيان الثَّوري وشُعبة عن سَلَمة. أما حديثُ الثَّوري:
حجیہ بن عدی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گائے سات آدمیوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے، اس نے پوچھا: جس کا سینک ٹوٹا ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی قربانی کرنے میں تجھے کوئی حرج نہیں ہے۔ اس نے پوچھا: عرجاء (لنگڑا جانور)؟ آپ نے فرمایا: جب وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک پہنچ جائے تو جائز ہے۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم آنکھ اور کان کا اچھی طرح معاینہ کر لیا کریں۔ ٭٭ سفیان ثوری اور شعبہ نے اس کو سلمہ بن کہیل کے واسطے سے حجیہ بن عدی سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7724]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل حجية بن عدي»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7724 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: جريج.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ 'ز' اور 'ب' میں یہ لفظ تحریف ہو کر 'جریج' ہو گیا ہے۔
(2) قوله: "قال القرن" سقط من (ز) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: الفاظ "قال القرن" نسخہ 'ز' اور 'ب' سے ساقط ہیں۔
(3) إسناده حسن من أجل حجية بن عدي. وسلف من طريق محمد بن عبيد عن وهب بن جرير برقم (1739).
⚖️ درجۂ حدیث: حجیہ بن عدی کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے محمد بن عبید عن وہب بن جریر کے طریق سے حدیث نمبر (1739) کے تحت گزر چکی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7724 in Urdu