🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. كلوا الأضاحي وادخروا .
قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ اور ذخیرہ بھی کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7758
أخبرني الأستاذ أبو الوليد وأبوبكر بن عبد الله، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أبي، حدثنا عُتْبة بن عبد الملك السَّهْمي، أنَّ زُرَارة بن كَرِيم بن الحارث بن عمرو حدَّثه، أنَّ الحارث بن عمرو حدَّثه عن النبيِّ ﷺ قال:"مَن شاءَ فَرَّعَ ومَن شاءَ لم يُفرِّعْ، ومَن شاءَ عَتَرَ ومَن شاءَ لم يَعتِرْ، وفي الغنم أُضحيَّتُها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7567 - صحيح
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو فرع کرنا چاہے، وہ فرع کر لے اور عتر کرنا چاہے وہ عتر کر لے۔ اور بکریوں میں ان کی قربانی کرے (زمانہ جاہلیت میں لوگ نذر مانتے تھے کہ اگر ان کا فلاں کام ہو جائے یا ان کی بکریاں فلاں تعداد تک پہنچ جائیں تو ہر دس کے بدلے میں ایک بکری ذبح کریں گے، اس کا نام وہ عتیرہ رکھتے تھے۔ ابتدائے اسلام میں یہ سلسلہ جاری تھا لیکن بعد میں اس کو منسوخ کر دیا گیا۔ خطابی کہتے ہیں: عتیرہ اس بکری کو کہتے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں لوگ بتوں کے نام پر ذبح کیا کرتے تھے۔ اور جب کسی کے اونٹوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ جاتی تو وہ ایک گائے بت کے نام پر ذبح کرتا اس کو فرع کہتے تھے۔ ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا، بعد میں اسے بھی منسوخ کر دیا گیا۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7758]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، عتبة بن عبد الملك السهمي روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع، وزرارة بن كريم قيل: له رؤية، وقد روى عنه جمع أيضًا وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: من زعم أنَّ له صحبة فقد وهمَ»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7758 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن، عتبة بن عبد الملك السهمي روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع، وزرارة بن كريم قيل: له رؤية، وقد روى عنه جمع أيضًا وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: من زعم أنَّ له صحبة فقد وهمَ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عتبہ بن عبد الملک سہمی سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں جگہ دی ہے، نیز ان کی متابعت بھی ثابت ہے۔ زرارہ بن کریم کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں نبی ﷺ کی زیارت (رؤیت) حاصل تھی، ان سے بھی کئی راویوں نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے، تاہم انہوں نے فرمایا کہ جس نے انہیں صحابی کہا اس سے وہم ہوا ہے۔
وأخرجه مطولًا ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1257) عن الحسن بن علي الحلواني، عن عبد الصمد بن عبد الوارث، بهذا الإسناد. ووقع في المطبوع منه: عتبة بن عبد الله، وصوابه: ابن عبد الملك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (1257) میں حسن بن علی حلوانی کے طریق سے عبد الصمد بن عبد الوارث کی اسی سند سے تفصیلاً روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے مطبوعہ نسخے میں "عتبہ بن عبد اللہ" لکھا گیا ہے جبکہ درست نام "عتبہ بن عبد الملک" ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح المشكل" (1065)، والطبراني في "الكبير" (3351)، والبيهقي 9/ 312 من طريق عبد الوارث بن سعيد، عن عتبة بن عبد الملك، به. ورواية الطبراني مطولة. وسيأتي من طريق يحيى بن زرارة بن كريم عن أبيه برقم (7777)، ويأتي تخريجه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "شرح المشکل" (1065)، طبرانی نے "الکبیر" (3351) اور بیہقی نے (9/ 312) میں عبد الوارث بن سعید کے طریق سے عتبہ بن عبد الملک کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ طبرانی کی روایت طویل ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ روایت آگے یحییٰ بن زرارہ بن کریم کے طریق سے اپنے والد سے حدیث نمبر 7777 پر آئے گی اور وہیں اس کی تخریج ذکر ہوگی۔
وانظر أحاديث الباب في "مسند أحمد" عند الحديثين (6713) و (15972).
📖 حوالہ / مصدر: اس باب کی دیگر احادیث "مسند احمد" میں حدیث نمبر 6713 اور 15972 کے تحت ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
قوله: "فرَّع" من الفَرَع بالتحريك: أول ما تلده الناقة وكانوا يذبحونه.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث میں لفظ "فرَّع" (را پر زبر کے ساتھ) 'الفَرَع' سے مشتق ہے؛ اس سے مراد اونٹنی کا وہ پہلا بچہ ہے جسے اہلِ عرب (بطورِ رسم) ذبح کیا کرتے تھے۔
والعَتيرة، قال ابن الأثير في "النهاية": كان الرجل من العرب ينذر النذر يقول: إذا كان كذا وكذا أو بلغ شاؤُه كذا، فعليه أن يذبح من كل عشرة منها في رجب كذا، وكانوا يسمُّونها العتائر، وهكذا كان في صدر الإسلام ثم نُسخ. وقال الخطابي: شاة تُذبَح في رجب.
📖 حوالہ / مصدر: علامہ ابن الاثیر "النهایہ" میں لکھتے ہیں کہ عربوں میں یہ رواج تھا کہ کوئی شخص نذر مانتا کہ اگر ایسا ہو گیا یا اس کی بکریاں (مثلاً سو کی) تعداد کو پہنچ گئیں تو وہ رجب کے مہینے میں ہر دس میں سے ایک ذبح کرے گا، انہیں 'عتائر' کہا جاتا تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں یہ رواج رہا پھر اسے منسوخ کر دیا گیا۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام خطابی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ بکری ہے جو رجب میں ذبح کی جاتی تھی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7758 in Urdu