🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. دعاء افتتاح الصلاة
نماز شروع کرنے کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 776
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وهب بن جَرِير، حدثنا شُعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن عاصم العَنَزي، عن ابن جُبير - وفي حديث وهب بن جرير: عن نافع بن جبير - بن مُطعِم، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان إذا افتتح الصلاةَ قال:"الله أكبرُ كبيرًا، والحمدُ لله كثيرًا، وسبحانَ الله بُكْرةً وأَصِيلًا - ثلاث مرَّات - اللهمَّ إني أعوذُ بك من الشيطان الرَّجيم، من هَمْزِهِ ونَفْثِه وَنَفْخِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 858 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور قرأت کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے تھے، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ اس دوران کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ کہتا ہوں: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ.» اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اور مغرب کے درمیان ہے، اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے ایسے صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! میرے گناہوں کو برف، پانی اور اولوں سے دھو دے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 776]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 776 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عاصم العنزي. ¤ ¤ محمد: هو ابن جعفر، والحديث من طريقه في "مسند أحمد" 27/ (16784)، و"سنن ابن ماجه" (807)، و "صحيح ابن حبان" (1779) و (2601).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" (دیگر شواہد کی بنا پر حسن) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ اسناد بذاتِ خود عاصم العنزی کے مجہول الحال ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: سند میں موجود "محمد" سے مراد محمد بن جعفر ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ان کے طریق سے یہ حدیث "مسند احمد" 27/ (16784)، "سنن ابن ماجہ" (807) اور "صحیح ابن حبان" (1779) و (2601) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (764)، وابن حبان (1780) من طريقين آخرين عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد (764) اور ابن حبان (1780) نے شعبہ سے دو دیگر طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ورواه مسعر بن كدام عن عمرو بن مرة عند أحمد (16739) و (16740) وأبي داود (765) فقال: عن رجل، ولم يسمِّ عاصمًا.
🧾 تفصیلِ روایت: مسعر بن کدام نے اسے عمرو بن مرہ سے روایت کرتے ہوئے (احمد 16739، 16740 اور ابوداؤد 765 میں) "عن رجل" (ایک آدمی سے) کہا ہے اور عاصم کا نام نہیں لیا۔
ورواه حصين بن عبد الرحمن السلمي عن عمرو بن مرة عند أحمد (16760) فسمّاه عباد بن عاصم.
🧾 تفصیلِ روایت: حصین بن عبدالرحمن السلمی نے اسے عمرو بن مرہ سے روایت کرتے ہوئے (مسند احمد 16760 میں) ان کا نام "عباد بن عاصم" بیان کیا ہے۔
ويشهد للتكبير والتحميد والتسبيح حديث ابن عمر عند مسلم (601)، وللاستعاذة حديث ابن مسعود السالف عند المصنف برقم (760).
🧩 متابعات و شواہد: تکبیر، تحمید اور تسبیح کی تائید میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث (صحیح مسلم 601) شاہد ہے، جبکہ استعاذہ (تعوذ) کے لیے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث شاہد ہے جو مصنف کے ہاں پہلے نمبر (760) پر گزر چکی ہے۔