المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. حكاية ورع الكفل .
کفل نامی شخص کے تقویٰ اور توبہ کا قصہ
حدیث نمبر: 7843
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله (1) بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن عبد الله بن عبد الله، عن سعد مولى طلحة، عن ابن عمر قال: لقد سمعتُ من فِي رسول الله ﷺ حديثًا لو لم أسمعه إلَّا مرةً أو مرتَين - حتَّى عَدَّ سبعًا - ولكنّي سمعتُه أكثرَ من ذلك؛ قال:"كان الكِفْلُ من بني إسرائيل لا يتوَرَّعُ عن ذنبٍ عَمِلَه، فأتَته امرأةٌ فأعطاها ستين دينارًا على أن يطأَها، فلما قعد منها مَقْعَدَ الرجلِ من امرأته، أُرعِدَتْ فبَكَتْ، فقال: ما يُبكيكِ؟ أكرَهتُكِ؟ قالت: لا، ولكن هذا عملٌ لم أعمله قطُّ، وإنما حَمَلَني عليه الحاجَةُ، قال: فتفعلين هذا ولم تفعليهِ قطُّ؟ قال: ثم نزل فقال: اذهبي والدنانيرُ لك. قال: ثم قال: واللهِ لا يَعصي الكِفلُ ربَّه أبدًا، فمات من ليلتِه وأصبَح مكتوبًا على بابه: قد غُفِرَ للكِفْلِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7651 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7651 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ایک حدیث سنی، اگر میں اسے ایک یا دو بار - یہاں تک کہ انہوں نے سات بار تک گنا - سنا ہوتا (تو شاید بیان نہ کرتا) لیکن میں نے اسے اس سے بھی کہیں زیادہ بار سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں «کفل» نامی ایک شخص تھا جو کسی بھی گناہ سے باز نہیں آتا تھا، ایک عورت اس کے پاس آئی تو اس نے اسے (بدکاری کے لیے) ساٹھ دینار دیے، جب وہ اس کے پاس اس طرح بیٹھا جیسے شوہر اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ہے، تو وہ عورت کانپنے لگی اور رونے لگی، اس نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا میں نے تم پر زبردستی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن یہ ایسا کام ہے جو میں نے کبھی نہیں کیا، مجھے صرف میری حاجت اور مجبوری نے اس پر آمادہ کیا ہے، اس نے کہا: تم نے کبھی ایسا نہیں کیا اور اب (مجبوری میں) یہ کر رہی ہو؟ راوی کہتے ہیں: پھر وہ اس سے دور ہو گیا اور کہنے لگا: تم چلی جاؤ اور یہ دینار بھی تمہارے ہی ہیں، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! کفل اب کبھی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرے گا، پس اسی رات اس کا انتقال ہو گیا اور صبح اس کے دروازے پر لکھا ہوا پایا گیا کہ ”بے شک اللہ نے کفل کو معاف کر دیا ہے“۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7843]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7843]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7843] [ترقيم الشركة 7750] [ترقيم العلميه 7651]
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7843 in Urdu