المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. لا تجلسوا على مائدة يدار عليها الخمر .
ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھو جس پر شراب کا دور چل رہا ہو
حدیث نمبر: 7974
أخبرناه عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن منصور، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن أبي المَلِيح قال: دخل نِسوةٌ من أهل الشام على عائشة، فقالت: أنتُنَّ اللاتي تَدخُلنَ الحمَّاماتِ؟ قال رسول الله ﷺ:"ما من امرأةٍ تَضَعُ ثيابَها في غير بيتِها، إِلَّا هَتَكَتْ السِّترَ فيما بينَها وبينَ الله ﷿" (2) . وقد رَوَتْ أمُّ سَلَمة ﵂ مثل هذا عن رسول الله ﷺ:
ابوالملیح فرماتے ہیں: کچھ شامی خواتین، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، ام المومنین نے فرمایا: تم وہی عورتیں ہو جو حمام میں جا کر نہاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے، وہ اپنے اللہ کی بارگاہ میں اپنی عزت برباد کر لیتی ہے۔ ٭٭ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7974]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7974 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح كسابقه، وهذا إسناد رجاله ثقات غير عبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف، فهو ضعيف، لكنه توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: اپنے سے پہلی حدیث کی طرح یہ بھی صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے مصنف (حاکم) کے شیخ عبد الرحمن بن الحسن کے، وہ ضعیف ہیں لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 42 / (25407)، وأبو داود (4010) من طريق محمد بن جعفر، والترمذي (2803) من طريق أبي داود الطيالسي، كلاهما عن شعبة، بهذا الإسناد. وقرن أحمد في روايته بمحمد بن جعفر حجاجَ بن محمد، وهذا الأخير لم يذكر أبا المليح بل قال: عن رجل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (25407) اور ابو داؤد (4010) نے محمد بن جعفر کے طریق سے، اور ترمذی (2803) نے ابو داؤد طیالسی کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں اسے شعبہ بن الحجاج کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام احمد نے اپنی روایت میں محمد بن جعفر کے ساتھ حجاج بن محمد کا بھی ذکر کیا ہے، لیکن حجاج بن محمد نے اپنی روایت میں "ابو الملیح" کا نام صراحتاً ذکر نہیں کیا بلکہ "عن رجل" (ایک آدمی سے) کے الفاظ کہے ہیں۔