المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم جاره .
جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے
حدیث نمبر: 7975
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن درَّاج أبي السَّمْح، عن السائب: أنَّ نِساءٌ دَخَلْنَ على أم سلمة زوج النبي، فسألتهنَّ: مَن أنتنَّ؟ قُلْنَ: من أهل حمص قالت من أصحاب الحَمَّامات؟ قُلنَ: وبها بأسٌ؟ قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أيما امرأةٍ نَزَعَتْ ثيابَها في غير بيتِها، خَرَقَ الله تعالى عنها سِتْرَه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7782 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7782 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سائب فرماتے ہیں: کچھ خواتین، ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، ام المومنین نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق حمص سے ہے۔ ام المومنین نے فرمایا: وہ عورتیں جو حمام میں جا کر نہاتی ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا حمام میں جانے میں کوئی حرج ہے؟ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے گھر سے باہر اپنے کپڑے اتارتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرما دیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7975]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7975 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة السائب وهو مولى أم سلمة، فقد تفرد بالرواية عنه درّاج أبو السمح، ودراج ليس بذاك القوي، والمحفوظ في هذه القصة حديث عائشة السابق.
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح لغیرہ۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند "سائب" (مولیٰ ام سلمہ) کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ان سے روایت کرنے میں دراج ابو السمح منفرد ہیں، اور دراج خود بھی اتنے قوی راوی نہیں ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: اس قصے میں "محفوظ" (صحیح ترین) روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد 44 / (26569) من طريق ابن لهيعة عن دراج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (44/ 26569) میں ابن لہیعہ کے طریق سے دراج کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔