🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. تَسْبِيحُ دِيكٍ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ وَعُنُقُهُ تَحْتَ الْعَرْشِ
اس فرشتے (مرغ) کی تسبیح جس کے پاؤں زمین پر اور گردن عرش کے نیچے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8008
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا سهل بن عثمان العَسكَري (2) ، حدثنا أبو خالد الأحمر، حدثنا الحسن بن عبيد الله النَّخَعي، عن سعد بن عُبيدة قال: سمع ابن عمر رجلًا يَحلِفُ بالكعبة، فقال: لا تَحلِفْ بالكعبة، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن حَلَفَ بغيرِ الله فقد كَفَر - أو (3) أشرَكَ -" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7814 - على شرط البخاري ومسلم
سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: کعبہ کی قسم نہ کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے کفر کیا - یا (فرمایا) شرک کیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8008]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8008] [ترقيم الشركة 7913] [ترقيم العلميه 7814]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8008 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) رجاله لا بأس بهم لكن فيه انقطاعًا بينّاه فيما سلف برقم (45). أبو خالد الأحمر: هو سليمان بن حيّان الأزدي. وأخرجه أحمد 10/ (6072)، والترمذي (1535) من طريق عن أبي خالد الأحمر، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں لیکن اس میں "انقطاع" (سند کا ٹوٹنا) ہے جس کی وضاحت ہم نے پہلے نمبر (45) پر کر دی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو خالد الاحمر سے مراد سلیمان بن حیان الأزدی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (10/ 6072) اور ترمذی (1535) نے ابو خالد الاحمر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن" کہا ہے۔
(1) تحرّف "أبو "في النسخ الخطية إلى بن.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ "ابو" تحریف کا شکار ہو کر غلطی سے "بن" لکھا گیا ہے۔
(2) لفظة "حدثنا" سقطت من النسخ الخطية، وأثبتناها من "إتحاف المهرة" (23335)، ومن "مسند ابن راهويه" (2407)، فقد رواه محمد بن عبيد، وهو الطنافسي.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "حدثنا" قلمی نسخوں سے ساقط (حذف) ہو گیا تھا، جسے ہم نے "إتحاف المهرة" (23335) اور "مسند ابن راہویہ" (2407) سے ثابت کیا ہے، کیونکہ اسے محمد بن عبید (جو کہ الطنافسی ہیں) نے روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8008 in Urdu