🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. تسبيح ديك رجلاه فى الأرض وعنقه تحت العرش
اس فرشتے (مرغ) کی تسبیح جس کے پاؤں زمین پر اور گردن عرش کے نیچے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8009
أخبرنا علي أبو (1) الحسين السَّبيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغفاري، حدثنا محمد بن عُبيد، حدثنا (2) المسعودي، عن مَعْبَد بن خالد، عن عبد الله بن يَسَار، عن قُتَيلة بنت صَيْفي، امرأة من جُهَينة: أَنَّ حَبْرًا جاء إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنكم تُشرِكون، تقولونَ: ما شاءَ اللهُ وشِئتَ، وتقولون والكعبةِ، فقال رسولُ الله ﷺ:"قولوا: ما شاءَ اللهُ ثمَّ شِئتَ، وقولوا: ورَبِّ الكعبةِ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7815 - صحيح
جہینہ کی ایک خاتون قتیلہ بنر صیفی بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی عالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: تم لوگ شرک کرتے ہو، تم کہتے ہو ماشاء اللہ وشئت اور تم لوگ کعبہ کی قسمیں کھاتے ہو، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ کرام کو ہدایت کرتے ہوئے) فرمایا: یوں کہا کرو ماشاء اللہ ثم شئت (یعنی ماشاء اللہ اور شئت کے درمیان حرف عطف واؤ نہ لگاؤ بلکہ ثم لگاؤ) اور (والکعبہ کہہ کر کعبہ کی قسم مت کھایا کرو بلکہ) ورب الکعبہ کہہ کر کعبہ کے رب کی قسم کھایا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8009]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8009 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، والمسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله - وإن كان قد اختلط، قد رُوي الحديث عنه قبل اختلاطه، وقد توبع أيضًا.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ راوی المسعودی (عبد الرحمن بن عبد اللہ) اگرچہ آخری عمر میں "اختلاط" (حافظہ خراب ہونے) کا شکار ہو گئے تھے، لیکن یہ حدیث ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی گئی ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه مطولًا أحمد 45/ (27093) عن يحيى بن سعيد القطان، عن المسعودي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (45/ 27093) میں یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے المسعودی کے واسطے سے مفصل روایت کیا ہے۔
ويحيى ممَّن روى عن المسعودي قبل اختلاطه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن سعید القطان ان راویوں میں سے ہیں جنہوں نے المسعودی سے ان کے اختلاط (حافظے کی خرابی) سے پہلے احادیث سنی تھیں۔
وأخرجه النسائي (4696) و (10756) من طريق مسعر بن كدام، عن معبد بن خالد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (4696 اور 10756) میں مسعر بن کدام کے طریق سے معبد بن خالد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (10757) من طريق المغيرة بن مقسم، عن معبد بن خالد، عن قتيلة، به. فأسقط منه عبد الله بن يسار.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (10757) میں مغیرہ بن مقسم کے طریق سے بھی روایت کیا ہے، جنہوں نے معبد بن خالد سے اور انہوں نے قتیلہ سے نقل کیا، مگر اس سند سے عبد اللہ بن یسار کا نام حذف کر دیا ہے۔
قال الترمذي في "العلل الكبير" (457): سألت محمدًا - يعني البخاري - عن هذا الحديث، فقال: هكذا روى معبد بن خالد عن عبد الله بن يسار عن قتيلة.
📌 اہم نکتہ: امام ترمذی "العلل الکبیر" (457) میں فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: معبد بن خالد نے اسے اسی طرح عبد اللہ بن یسار کے واسطے سے قتیلہ سے روایت کیا ہے۔
وقال منصور - يعني ابن المعتمر -: عن عبد الله بن يسار عن حذيفة. قال محمد: حديث منصور أشبه عندي وأصحّ. وانظر طريق منصور بن المعتمر وتخريجها في "مسند أحمد" 38/ (23265).
🔍 فنی نکتہ / علّت: منصور بن المعتمر نے اسے عبد اللہ بن یسار کے واسطے سے حضرت حذفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ منصور کی یہ روایت میرے نزدیک زیادہ قرینِ قیاس اور صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: منصور بن المعتمر کے طریق کی تفصیل "مسند احمد" (38/ 23265) میں ملاحظہ کریں۔
وخالفه الدارقطني في "العلل" (4112 - الدباسي) فقال: وأشبهها بالصواب حديث قتيلة من رواية مسعر، والمسعودي عن معبد بن خالد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام دارقطنی نے "العلل" (4112) میں امام بخاری سے اختلاف کیا ہے اور فرمایا کہ صحت کے زیادہ قریب قتیلہ کی وہ حدیث ہے جو مسعر اور المسعودی نے معبد بن خالد کے واسطے سے روایت کی ہے۔