🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. لا نذر فى معصية الرب ولا فى قطيعة الرحم
اللہ کی معصیت اور قطع رحمی میں کوئی نذر (ماننا) جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8017
حدثناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا حَبيب المعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ أخوينِ من الأنصار كان بينهما مِيراثٌ، فسأل أحدُهما صاحبَه القسمةَ، فقال: لئن عُدْتَ سألتَني القسمةَ لم أكلِّمْك أبدًا، وكلُّ مالي في رِتَاج الكعبة، فقال عمر بن الخطاب إنَّ الكعبةَ لَغنيّةٌ عن مالِك، كَفِّرْ عن يمينك وكلِّمْ أخاك، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يمينَ عليك ولا نذرَ في معصيةِ الرَّبِّ، ولا في قطيعةِ الرَّحِم، ولا فيما لا تَملِكُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7823 - صحيح
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو انصاری صحابیوں کے درمیان وراثت کا کوئی مسئلہ تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے وراثت تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا، دوسرے نے کہا: اگر تو نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو میں ساری زندگی تجھ سے بات نہیں کروں گا، میرا پورا مال کعبہ کی ضروریات کے لیے ہے۔ (یہ کیس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کعبہ شریف کو تیرے مال کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر لے اور اپنے بھائی کے ساتھ بات کر لے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تیرے ذمے کوئی قسم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی مانی ہوئی نذر شرعاً نذر نہیں ہے، قطع رحمی کی مانی ہوئی نذر، شرعی نذر نہیں ہے، اور نہ ہی اس چیز کی نذر جائز ہے جس کے تم مالک نہیں ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8017]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8017 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده إلى سعيد بن المسيب حسن، وسماع سعيد من عمر مشَّاه كبار العلماء كأحمد وابن معين. أبو المثنّى: هو معاذ بن المثنى العنبري.
⚖️ درجۂ حدیث: سعید بن مسیب تک اس کی سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام سعید بن مسیب کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع اگرچہ مرسل ہے، مگر امام احمد اور ابن معین جیسے بڑے علماء نے اسے معتبر اور 'موصول' کے حکم میں مانا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن المثنیٰ العنبری ہیں۔
وقال الدارقطني في "العلل" (181) عن هذا الحديث وسابقه: يشبه أن يكونا صحيحين.
📌 اہم نکتہ: امام دارقطنی "العلل" (181) میں اس حدیث اور اس سے پہلی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: "ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں صحیح ہیں"۔
وأخرجه ابن حبان (4355) عن أبي خليفة الفضل بن حُباب، عن مسدد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (4355) میں ابو خلیفہ فضل بن حباب کے طریق سے مسدد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (3272) عن محمد بن المنهال، عن يزيد بن زريع، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (3272) نے محمد بن المنہال کے طریق سے یزید بن زریع کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "رِتاج" بكسر الراء الباب، والمقصود جوف الكعبة، لأنَّ الجوف يُدخَل إليه من بابها.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث میں لفظ "رِتاج" (راء کے نیچے زیر کے ساتھ) کا معنی دروازہ ہے، اور اس سے مراد خانہ کعبہ کا اندرونی حصہ (جوف) ہے، کیونکہ کعبہ کے اندر اس کے دروازے ہی سے داخل ہوا جاتا ہے۔