المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ
اللہ کی معصیت اور قطع رحمی میں کوئی نذر (ماننا) جائز نہیں
حدیث نمبر: 8016
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الوليد بن كَثير، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، أَنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"مَن طَلَّقَ مَن لا يَملِكُ فلا طلاقَ له، ومَن أعتقَ ما لا يَملِكُ فلا عَتاقَ له، ومَن نَذَرَ فيما لا يَملِكُ فلا نذرَ له، ومن حَلَفَ على معصيةٍ فلا يمينَ له، ومن حَلَفَ على قطيعةِ رَحِمٍ فلا يمينَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وعند عمرو بن شعيب فيه إسناد آخر:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وعند عمرو بن شعيب فيه إسناد آخر:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایسی عورت کو طلاق دی جو اس کے نکاح میں نہیں ہے، اس کی طلاق فضول ہے۔ جس نے ایسے شخص کو آزاد کیا جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔ اس کا آزاد کرنا فضول ہے، اور جس نے نافرمانی پر قسم کھائی، اس کی قسم فضول ہے۔ اور جس نے قطع رحمی کی قسم کھائی، اس کی قسم بھی فضول ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8016]
حدیث نمبر: 8017
حدثناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا حَبيب المعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ أخوينِ من الأنصار كان بينهما مِيراثٌ، فسأل أحدُهما صاحبَه القسمةَ، فقال: لئن عُدْتَ سألتَني القسمةَ لم أكلِّمْك أبدًا، وكلُّ مالي في رِتَاج الكعبة، فقال عمر بن الخطاب إنَّ الكعبةَ لَغنيّةٌ عن مالِك، كَفِّرْ عن يمينك وكلِّمْ أخاك، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يمينَ عليك ولا نذرَ في معصيةِ الرَّبِّ، ولا في قطيعةِ الرَّحِم، ولا فيما لا تَملِكُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7823 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7823 - صحيح
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو انصاری صحابیوں کے درمیان وراثت کا کوئی مسئلہ تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے وراثت تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا، دوسرے نے کہا: اگر تو نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو میں ساری زندگی تجھ سے بات نہیں کروں گا، میرا پورا مال کعبہ کی ضروریات کے لیے ہے۔ (یہ کیس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کعبہ شریف کو تیرے مال کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر لے اور اپنے بھائی کے ساتھ بات کر لے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” تیرے ذمے کوئی قسم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی مانی ہوئی نذر شرعاً نذر نہیں ہے، قطع رحمی کی مانی ہوئی نذر، شرعی نذر نہیں ہے، اور نہ ہی اس چیز کی نذر جائز ہے جس کے تم مالک نہیں ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8017]
حدیث نمبر: 8018
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا أبو البَخْتري عبدُ الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أسباط بن محمد القُرَشي، حدثنا الشَّيباني، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن تَمِيم الطائي، قال: جاء رجلٌ إلى عَدِيّ بن حاتم فقال: إني تزوجتُ امرأةً فأعطِني، قال: أكتبُ لك بدِرْعٍ ومِغفَر فتُعْطاها، فتَسَخَّطها الرجلُ، فَحَلَفَ عديٌّ أن لا يُعطيها إياه، فقال الرجل: كنتُ أرجو أن تُعطيَني وَصِيفًا، فقال: والله لَهُما أحبُّ إليَّ من وَصِيفَينِ، فقال الرجل: فاكتُبْ لي بهما، فقال عديٌّ: أمَا [واللهِ لولا] أنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إذا حَلَفَ أحدُكم على يمينٍ فرأى خيرًا منها، فليأتِ الذي هو خيرٌ"، ما كتبتُ لك بهما، قال: فكَتَبَ له بهما (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7824 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7824 - صحيح
سیدنا تمیم طائی فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے شادی کر لی ہے، آپ مجھے کچھ عطا فرمائیے، سیدنا عدی بن حاتم نے کہا: میں تیرے لیے ایک زرہ اور ایک خود لکھ دیتا ہوں، ان کے حکم کے مطابق ان کو زرہ اور خود دے دیا گیا، وہ شخص ناراض ہو گیا (کہ اتنی کم عطا کیوں دی) سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کو بھی غصہ آ گیا اور انہوں نے قسم کھا لی کہ اب تجھے ان میں سے کچھ بھی نہیں دوں گا، اس آدمی نے کہا: میں تو یہ امید لے کر آیا تھا کہ آپ مجھے ایک خادم دو گے، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے یہ زرہ اور خود، دو خادموں سے بھی زیادہ پسند ہے، وہ آدمی راضی ہو گیا اور کہنے لگا: ٹھیک ہے، آپ مجھے وہی دو چیزیں دے دیجیے، تب سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی قسم کھائے، پھر اس کو اس سے بھی زیادہ بھلائی کی بات سمجھ میں آئے تو اس کو چاہیے کہ زیادہ بھلائی والے کام پر عمل کرے (اور قسم ٹوٹنے کا کفارہ ادا کر دے) اس کے بعد سیدنا عدی نے وہ زرہ اور خود ان کے لیے لکھ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8018]
حدیث نمبر: 8019
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا الحَكَم بن موسى، حدثنا الهيثم بن حُمَيد، عن زيد بن واقد، عن بُسْر بن عُبيد الله، عن ابن عائذ، عن أبي الدَّرداء، عن النبيِّ ﷺ؛ قال: أفاءَ الله على رسولِه إبلًا ففرَّقها، فقال أبو موسى الأشعريُّ: يا رسولَ الله، أَحْذِني، قال:"لا"، فقال له ثلاثًا، فقال رسول الله ﷺ:"لا أفعلُ (2) "، قال: وبقي أربعٌ غُرُّ الذُّرَى فقال:"يا أبا موسى، خُذْهُنَّ" فقال: يا رسولَ الله، إني أستَحْيي [سألتُك] (3) فمنعتَني وحلفتَ، فأشفقتُ أن يكونَ دخلَ على رسول الله ﷺ وهمٌ، فقال رسول الله ﷺ:"إنِّي إذا حلفتُ فرأيتُ أنَّ غيرَ ذلك أفضلُ، كفَّرتُ عن يميني وأَتيتُ الذي هو أفضلُ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7825 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7825 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال غنیمت کے طور پر اونٹ عطا فرمائے تھے، اور اس نے وہ تقسیم کر دئیے ہیں، سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجھے بھی عطا فرما دیجئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا، سیدنا ابوموسیٰ نے تین مرتبہ عرض کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ منع فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں: چار بچے باقی بچ گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! یہ لے لو، سیدنا ابوموسیٰ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تو مجھے حیاء آ رہی ہے، میں نے پہلے آپ سے مانگا تو آپ نے منع فرما دیا تھا اس لیے میں قسم کھا لی، مجھے یہ ڈر تھا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں، لیکن دیکھتا ہوں کہ اس کے خلاف کام کرنا زیادہ افضل ہے تو میں افضل کام کر لیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8019]
حدیث نمبر: 8020
حدثنا أبو الوليد الإمام، حدثنا محمد بن إسحاق ومحمد بن نُعيم، قالا: حدثنا أبو الأشعَث، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطُّفَاوي، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسولُ الله ﷺ إِذا حَلَفَ على يمين لا يَحنَثُ، حتى أنزل الله تعالى كفّارةَ اليمين، فقال:"لا أحلِفُ على يمينٍ فأرى غيرَها خيرًا منها، إلَّا كَفَّرتُ عن يميني ثم أَتيتُ الذي هو خيرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7826 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7826 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی قسم کھا لیتے تو اس کو اس وقت تک نہ توڑتے جب تک اللہ تعالیٰ اس قسم کا کفارہ نازل نہ فرما دیتا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں، پھر اس کے غیر میں بھلائی دیکھتا ہوں تو قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور وہ کام کرتا ہوں جو افضل ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8020]