المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. الكلالة من لم يترك ولدا ولا والدا
کلالہ وہ ہے جس کا نہ کوئی بچہ (وارث) ہو اور نہ والد
حدیث نمبر: 8164
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس: أنَّ عمر بن الخطاب أَوصَى عند الموت، فقال: الكَلالةُ ما قلتُ، قال ابن عباس: وما قلتَ؟ قال: قال: مَن لا ولدَ له (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وهو في الأصل مُسنَد، فإنَّ في خطبته: وما راجعتُ رسولَ الله ﷺ في شيء ما راجعتُه فيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7965 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وهو في الأصل مُسنَد، فإنَّ في خطبته: وما راجعتُ رسولَ الله ﷺ في شيء ما راجعتُه فيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7965 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے موت کے وقت وصیت فرمائی اور اس کے دوران پوچھا کہ ” تم کلالہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا: جس کی کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث اصل میں مسند ہے کیونکہ اس کے خطبہ میں ہے کہ میں نے بہت ساری چیزوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8164]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8164 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وهو في "مصنف عبد الرزاق" (19187). وسلف برقم (3226).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ "مصنف عبدالرزاق" (19187) میں موجود ہے اور پیچھے نمبر (3226) پر گزر چکا ہے۔
(2) انظر خطبة عمر ﵁ هذه في "صحيح مسلم" (567) و (1617).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ "صحیح مسلم" (567) اور (1617) میں ملاحظہ کریں۔