🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. الْكَلَالَةُ مَنْ لَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا
کلالہ وہ ہے جس کا نہ کوئی بچہ (وارث) ہو اور نہ والد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8163
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن سفيان، عن أبيه سعيد بن مسروق، عن المسيَّب بن رافع، عن عبد الله بن مسعود قال: ما كان اللهُ تعالى ليَراني أفضِّلُ أُمًّا على جَدٍّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7964 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بات نہیں دکھائی کہ میں ماں کو دادا پر ترجیح دوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8163]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8164
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس: أنَّ عمر بن الخطاب أَوصَى عند الموت، فقال: الكَلالةُ ما قلتُ، قال ابن عباس: وما قلتَ؟ قال: قال: مَن لا ولدَ له (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وهو في الأصل مُسنَد، فإنَّ في خطبته: وما راجعتُ رسولَ الله ﷺ في شيء ما راجعتُه فيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7965 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے موت کے وقت وصیت فرمائی اور اس کے دوران پوچھا کہ تم کلالہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: جس کی کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث اصل میں مسند ہے کیونکہ اس کے خطبہ میں ہے کہ میں نے بہت ساری چیزوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8164]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں