🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. ميراث العمة والخالة
پھوپھی اور خالہ کی میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8194
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا زكريا بن عَديّ، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: جاءت امرأةُ سعد بن الرَّبيع فقالت: يا رسولَ الله، هاتانِ ابنتا سعد بن الرَّبيع، قُتل أبوهما معكَ يومَ أُحدٍ شهيدًا، وإنَّ عمَّهما أخذَ مالَهما فلم يَدَعْ لهما مالًا، فقال:"يَقضِي اللهُ في ذلك" قال: فنزلت آيةُ الميراث، فأرسلَ رسولُ الله ﷺ إلى عمِّهما، فقال:"أعطِ ابنتَيْ سعدٍ الثُّلثَينِ، وأُمَّهما الثّمنَ، وما بقيَ فهو لك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا سعد بن ربیع کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں لڑکیاں، سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں، ان کا باپ آپ کے ہمراہ جہاد کرتا ہوا جنگ احد میں شہید ہو گیا تھا، ان کے چچا نے ان کا سارا مال لے لیا ہے اور ان بچیوں کو کچھ بھی نہیں دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس موقع پر میراث کی آیات نازل ہوئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لڑکیوں کے چچا کی جانب پیغام بھیجا اور فرمایا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کی دو تہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو، اور جو باقی بچے وہ خود رکھ لو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8194]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8194 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده محتمل للتحسين من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل. وأخرجه أحمد 23 / (14798)، والترمذي (2092) من طريق زكريا بن عدي، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23/ 14798) اور ترمذی (2092) نے زکریا بن عدی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن صحيح، لا نعرفه إلَّا من حديث عبد الله بن محمد بن عقيل.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: "یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کی حدیث سے جانتے ہیں۔"
وسلف برقم (8153).
📝 نوٹ / توضیح: یہ پیچھے نمبر (8153) پر گزر چکی ہے۔