🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. ميراث العمة والخالة
پھوپھی اور خالہ کی میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8195
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الإمام، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا زكريا بن يحيى، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: أقبَلَ رسولُ الله ﷺ على حمار، فلقيَه رجلٌ فقال: يا رسولَ الله، رجلٌ ترك عمَّتَه وخالتَه لا وارثَ له غيرُهما"، قال فرفع رأسَه إلى السماء، فقال:"اللهمَّ رجلٌ تركَ عمَّتَه وخالتَه لا وارثَ له غيرهما" ثم قال:"أين السائلُ؟" قال: ها أنا ذا، قال:"لا ميراث لهما" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ عبد الله بن جعفر المَدِيني وإِن شَهِدَ عليه ابنُه بسُوءِ الحِفْظ، فليس ممن يُترَكُ حديثُه. وله شاهدٌ:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمار کی طرف متوجہ ہوئے، آپ سے ایک آدمی ملا، کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی نے ایک پھوپھی اور ایک خالہ چھوڑی ہے ان کے علاوہ اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔ (وراثت کا کیا حکم ہے؟) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی جانب چہرہ اٹھایا اور دعا مانگی اے اللہ! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہے ان دو کے علاوہ اس کا کوئی وارث نہیں ہے (اس کی وراثت کیسے بٹے گی؟) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہاں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو وراثت نہیں ملے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ عبداللہ بن جعفر المدینی کے خلاف اگرچہ اس کے بیٹے علی نے سوء حفظ کی گواہی دی ہے لیکن یہ ان محدثین میں سے نہیں ہیں جن کی احادیث کو چھوڑا جا سکتا ہو، اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8195]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8195 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن جعفر: وهو ابن نجيح المَديني. وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"، فقال: ولا احتجَّ به أحد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن جعفر (ابن نجیح المدینی) کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ذہبی نے "التلخیص" میں اسے معلول قرار دیا اور کہا: "کسی نے اس سے حجت نہیں پکڑی۔"
ولم نقف على من أخرجه غير المصنف. وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے علاوہ ہمیں کوئی نہیں ملا جس نے اس کی تخریج کی ہو۔ اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔