🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. لا يرث الميت من الميت إذا لم يعرف أيهما مات قبل صاحبه
دو مرنے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے اگر یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے کون مرا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8208
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب وأبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرقندي قالا: حدثنا محمد بن نصر الإمام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، عن جعفر بن محمد، عن أبيه: أَنَّ أُمّ كُلْثُومٍ بنتَ علي تُوفِّيَت هي وابنُها زيدُ (1) بن عمر بن الخطّاب في يوم، فلم يُدرَ أيُّهما مات قبلُ، فلم تَرِثْه ولم يَرِثْها، وأنَّ أهلَ صِفِّين لم يتوارثوا، وأنَّ أهلَ الحَرَّة لم يتوارثوا (2) . هذا الحديث إسنادُه صحيح. وفيه فوائدُ، منها: أنَّ أم كلثوم وَلَدَت لعمر ابنًا، فأما الفائدة الأخرى، فله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8009 - صحيح
جعفر بن محمد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے زید بن عمر بن خطاب کا ایک ہی دن انتقال ہوا تھا اور یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان میں سے پہلے کس کا انتقال ہوا، تو ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کا وارث نہیں قرار دیا گیا۔ اور جنگ صفین میں مارے جانے والوں کو بھی ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا گیا تھا اور اہل حرہ کو بھی ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا گیا تھا۔ ٭٭ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے، اور اس سے کئی فوائد ملے، ان میں سے ایک یہ بھی کہ ام کلثوم کے پیٹ سے سیدنا عمر کا ایک بیٹا پیدا ہوا تھا، اور دوسرے فائدہ کے لیے اس کی شاہد حدیث بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8208]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8208 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: وزيد، بإقحام واو، والتصويب من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ) "وزید" (واؤ کے اضافے کے ساتھ) ہے، درستگی تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "قوی" ہے۔
وأخرجه سعيد بن منصور في "سننه" (240)، والدارمي (3089)، والدارقطني (4101)، والبيهقي 6/ 222 من طرق عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے سعید بن منصور نے "السنن" (240)، دارمی (3089)، دارقطنی (4101) اور بیہقی (6/ 222) نے عبدالعزیز بن محمد الدراوردی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر "تاريخ دمشق" لابن عساكر 19/ 488 - 489.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (19/ 488-489) ملاحظہ کریں۔