🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. لا يرث الميت من الميت إذا لم يعرف أيهما مات قبل صاحبه
دو مرنے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے اگر یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے کون مرا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8210
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، عن يزيد النَّحْوي، عن عِكرِمة، عن ابن عباس: ﴿وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ (4) أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [النساء:33] ، قال: كان الرجلُ يُحالِفُ الرَّجلَ ليس بينهما نسبٌ، ليرثَ أحدُهما الآخرَ، فنَسَخَ اللهُ ذلك بالأنفال: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [الأنفال: 75] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8011 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ آیت وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ (النساء: 33) اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا، انہیں ان کا حصہ دو اس آیت کے نزول کے بعد ایک آدمی دوسرے کا رشتہ دار نہیں ہوتا تھا لیکن یہ ایک دوسرے کے وارث بننے کے لیے آپس میں قسم اٹھا لیتے تھے، اس عمل کو اللہ تعالیٰ نے وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّه (الأحزاب: 6) اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں اس آیت کے ساتھ منسوخ کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8210]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8210 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) قال ابن زنجلة في "حجة القراءات" ص 201: قرأ عاصم وحمزة والكِسائيّ: (والذين عَقَدَت أَيْمَانُكم) بغير ألف، وحجتهم أَنَّ الأيمان عَقَدَت بينهم، لأنَّ في قوله: (أيمانُكم) حجَّة على أَنَّ أيمان الطائفتينِ هي عَقَدت ما بينهما … وقرأ الباقون: (والَّذين عاقَدَت) بالألف، وحجتهم أنَّ العقد كان من الفريقين، وكان هذا في الجاهلية؛ يجيء الرجل الذليل إلى العزيز فيعاقده ويحالفه، ويقول له: أنا ابنك ترثني وأرثك، وحُرمتي حرمتك، ودمي دمك، وثأري ثأرك، فأمر الله جلَّ وعزَّ بالوفاء لهم، فهذا العقد لا يكون إلَّا بين اثنين. وقيل: إنَّ ذلك أمر قبل تسمية المواريث، وهي منسوخة بآية المواريث.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: ابن زنجلہ نے "حجۃ القراءات" (ص 201) میں فرمایا: "عاصم، حمزہ اور کسائی نے {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ} (بغیر الف کے) پڑھا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قسموں (ایمان) نے ان کے درمیان عقد باندھا، کیونکہ ’ایمانکم‘ (تمہاری قسمیں) کا لفظ اس بات پر دلیل ہے کہ دونوں گروہوں کی قسموں نے ہی ان کے درمیان یہ تعلق جوڑا ہے...۔ اور باقی قراء نے {وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ} (الف کے ساتھ) پڑھا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ عقد دونوں فریقین کی جانب سے تھا، اور یہ دورِ جاہلیت میں ہوتا تھا کہ کوئی کمزور آدمی کسی طاقتور کے پاس آتا اور اس سے معاہدہ و حلف کرتا کہ ’میں تمہارا بیٹا ہوں، تم میرے وارث ہو گے اور میں تمہارا، میری حرمت تمہاری حرمت ہے، میرا خون تمہارا خون ہے، اور میرا بدلہ تمہارا بدلہ ہے‘؛ تو اللہ عزوجل نے ان کے ساتھ وفاداری کا حکم دیا۔ پس یہ عقد صرف دو فریقین کے درمیان ہوتا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ حکم وراثت کے حصے مقرر ہونے سے پہلے تھا، اور اب یہ آیتِ مواریث سے منسوخ ہو چکا ہے۔"
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، وهو متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر (متن) صحیح ہے، اور یہ سند محمد بن موسیٰ بن حاتم کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (2921) عن أحمد بن محمد بن ثابت - وهو ثقة - عن علي بن الحسين بن واقد، عن أبيه، عن يزيد النحوي وإسناده حسن من أجل علي بن الحسين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2921) نے احمد بن محمد بن ثابت (جو ثقہ ہیں) سے، انہوں نے علی بن الحسین بن واقد سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے یزید النحوی سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند علی بن الحسین کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وانظر ما سلف برقم (8200).
📝 نوٹ / توضیح: جو پیچھے نمبر (8200) پر گزرا اسے ملاحظہ کریں۔