🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. من لم يترك وارثا إلا عبدا أعتقه فالميراث له
جس کا کوئی وارث نہ ہو سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کیا، تو میراث اسی کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8211
أخبرنا أبو يحيى السَّمرقَندي، حدثنا محمد بن نصر الإمام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا معاذ بن هشام، عن أبيه، عن قَتَادة قال: حدثنا أبو حسّان، عن الأسوَد بن هلال: أنه سَمِعَ معاذَ بن جَبَل - يقول وهو على المنبر - وَرَّثَ مالَ رجل ترك ابنتَه وأختَه، فجعلَ لابنتِه النِّصفَ ولأختِه النِّصفَ، ورسولُ الله ﷺ حيٌّ بين أظهُرِهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8012 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے منبر شریف پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں یوں ہوتا تھا کہ جس آدمی نے اپنے ورثاء میں ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو تو دونوں کو آدھا آدھا مال دیا جاتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8211]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8211 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح لكن من حديث الأسود بن يزيد النخعي عن معاذ بن جبل، وذكرُ الأسود بن هلال فيه وهمٌ ممَّن دون معاذ بن هشام الدستوائي، فقد رواه عنه بندار محمد بن بشار عند الشاشي (1371) بذكر الأسود بن يزيد، وكذلك رواه على الصواب أبانُ العطار عن قتادة عند أبي داود (2893)، وقد روي أيضًا من غير وجه عن الأسود بن يزيد عن معاذ كما هو الصحيح فيما ذكرناه عند تخريج الرواية السالفة برقم (8171).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے لیکن یہ حدیث اسود بن یزید النخعی کی معاذ بن جبل سے روایت کردہ ہے؛ اور اس میں "اسود بن ہلال" کا ذکر معاذ بن ہشام الدستوائی سے نیچے کسی راوی کا "وہم" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: چنانچہ بندار محمد بن بشار نے شاشی (1371) کے ہاں اسے اسود بن یزید کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے؛ اور اسی طرح ابان العطار نے قتادہ سے ابوداؤد (2893) کے ہاں اسے درست طور پر روایت کیا ہے۔ نیز یہ کئی اور طرق سے بھی اسود بن یزید عن معاذ سے مروی ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ ہم نے گزشتہ روایت نمبر (8171) کی تخریج میں ذکر کیا ہے۔
أبو حسان: هو مسلم بن عبد الله الأعرج.
📝 نوٹ / توضیح: ابو حسان سے مراد مسلم بن عبداللہ الاعرج ہیں۔