🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. ذكر ثلاث خصال تحل دم امرئ مسلم
تین خصلتوں کا ذکر جن کی وجہ سے مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8298
أخبرَناه عبد الباقي بن قانِع الحافظ ببغداد، حدثنا محمد بن يحيى بن المنذر ومحمد بن غالب بن حَرْب قالا: حدثنا عثمان بن الهيثم مؤذِّن مسجد البصري، حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن قَتَلَ عبدَه قَتَلْناه، ومَن جَدَعَ عبدَه جَدَعْناه" (1) . قال الحاكم: أنا أَخشى أنَّ عثمان بن الهيثم أراد الإسناد الأول كما رواه يزيدُ بن هارون، والله أعلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے غلام کو قتل کیا، ہم اس کو قتل کر دیں گے اور جس نے اپنے غلام کے جسم کا کوئی حصہ کاٹا ہم اس کے جسم کا وہی حصہ کاٹ دیں گے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: مجھے خدشہ ہے کہ عثمان بن ہیثم نے پہلی اسناد کا ہی ارادہ کیا ہے، جیسا کہ اس کو یزید بن ہارون نے روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8298]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8298 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ضعيف لمخالفة عثمان بن الهيثم في إسناده من هو أوثق منه عن هشام بن حسان كما في الحديث السابق، وعثمان هذا صدوق حسن الحديث إلَّا أنه كان تغيّر في آخر عمره فصار يتلقّن، وقد سلك في روايته هذه عن هشام بن حسان طريق الجادّة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ عثمان بن الہیثم نے اپنی سند میں ان راویوں کی مخالفت کی ہے جو ہشام بن حسان سے روایت کرنے میں ان سے زیادہ ثقہ ہیں (جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا)۔ عثمان "صدوق" اور "حسن الحدیث" تو ہیں لیکن آخری عمر میں ان کا حافظہ متغیر ہو گیا تھا اور وہ "تلقین" قبول کرنے لگے تھے (یعنی لوگ جو کہتے وہ مان لیتے)۔ انہوں نے ہشام بن حسان سے روایت کرتے ہوئے "طریق الجادّہ" (عام مشہور راستہ/سند) اختیار کیا ہے۔
ولم نقف عليه من هذا الوجه عند غير المصنف.
📝 نوٹ / توضیح: ہمیں مصنف کے علاوہ کسی اور کے پاس یہ روایت اس طریق سے نہیں ملی۔