المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. حكاية أمة اتهمها سيدها
ایک لونڈی کا قصہ جس پر اس کے مالک نے تہمت لگائی تھی
حدیث نمبر: 8300
أخبرنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه وأبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، عن عمر بن عيسى القُرشي ثم الأَسَدي، عن ابن جريج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عبّاس قال: جاءت جاريةٌ إلى عمر بن الخطاب فقالت: إنَّ سيِّدي اتَّهَمني فأقعَدَني على النار حتى احترقَ فَرْجي. فقال عمر: هل رأَى ذلك عليكِ؟ قالت: لا، قال: فاعتَرفتِ له بشيء؟ قالت: لا، قال عمر: عليَّ به، فلما رأى عمرُ الرجلَ، قال: أتعذِّبُ بعذابِ الله؟! قال: يا أمير المؤمنين، اتَّهمتُها في نفسِها، قال: رأيتَ ذلك عليها؟ قال الرجل: لا، قال: فاعتَرفَتْ لك بذلك؟ قال: لا، قال: والذي نفسي بيده لو لم أسمَعْ رسولَ الله ﷺ يقول:"لا يُقادُ مملوكٌ مِن مالِكِه، ولا ولدٌ من والدِه"، لأقَدْتُها منكَ، فبرَّزَه وضربَه مئةَ سوطٍ، ثم قال: اذهبي فأنتِ حُرَّة لوجه الله، وأنتِ مولاةُ الله ورسوله (1) . قال أبو صالح: قال الليث: هذا معمولٌ به.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدانِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8101 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدانِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8101 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک لونڈی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: میرے آقا نے مجھ پر تہمت لگائی ہے اور مجھے آگ پر بٹھا دیا، جس کی وجہ سے میری شرمگاہ جل گئی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس نے تیرا کوئی گناہ دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تو نے اس کے سامنے خود کسی گناہ کا اقرار کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے کر آؤ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: کیا تم اللہ کے عذاب جیسا عذاب دیتے ہو؟ اس نے کہا: اے امیرالمومنین! مجھے اس کی ذات پر شک ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تو نے اس میں کوئی گناہ دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس نے خود اقرار کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہ سن رکھا ہوتا کہ ” مملوک کو اس کے مالک سے اور اولاد کو اس کے والد سے قصاص نہیں دلوایا جائے گا “ تو میں اس لونڈی کو قصاص ضرور دلواتا، پھر آپ نے اس کو 100 کوڑے مارے، اور لونڈی سے فرمایا: تو جا، تو اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہے، اور تو اللہ اور اس کے رسول کی باندی ہے۔ ٭٭ ابوصالح کہتے ہیں: لیث نے کہا: یہ حدیث معمول بہا نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی درج ذیل دو شاہد حدیثیں موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8300]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8300 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف بمرّة من أجل عمر بن عيسى القرشي، وتقدم الكلام عليه عند مكرره السالف برقم (2892).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے طرق اور شواہد کی بنا پر "حسن" ہے، لیکن یہ والی سند عمر بن عیسیٰ قرشی کی وجہ سے "سخت ضعیف" (ضعیف بمرۃ) ہے۔ اس پر کلام اس کے مکرر مقام نمبر (2892) پر گزر چکا ہے۔
ولشطره الثاني انظر حديث ابن عباس الآتي برقم (8303).
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کے دوسرے حصے کے لیے ابن عباس ؓ کی حدیث دیکھیں جو آگے نمبر (8303) پر آ رہی ہے۔