المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. حِكَايَةُ أَمَةٍ اتَّهَمَهَا سَيِّدُهَا
ایک لونڈی کا قصہ جس پر اس کے مالک نے تہمت لگائی تھی
حدیث نمبر: 8299
فحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا بُندارٌ، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أَخْصَى عبدَه أَخْصَيْناه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8100 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8100 - صحيح
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے غلام کو خصی کیا، ہم اس کو خصی کر دیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8299]
حدیث نمبر: 8300
أخبرنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه وأبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، عن عمر بن عيسى القُرشي ثم الأَسَدي، عن ابن جريج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عبّاس قال: جاءت جاريةٌ إلى عمر بن الخطاب فقالت: إنَّ سيِّدي اتَّهَمني فأقعَدَني على النار حتى احترقَ فَرْجي. فقال عمر: هل رأَى ذلك عليكِ؟ قالت: لا، قال: فاعتَرفتِ له بشيء؟ قالت: لا، قال عمر: عليَّ به، فلما رأى عمرُ الرجلَ، قال: أتعذِّبُ بعذابِ الله؟! قال: يا أمير المؤمنين، اتَّهمتُها في نفسِها، قال: رأيتَ ذلك عليها؟ قال الرجل: لا، قال: فاعتَرفَتْ لك بذلك؟ قال: لا، قال: والذي نفسي بيده لو لم أسمَعْ رسولَ الله ﷺ يقول:"لا يُقادُ مملوكٌ مِن مالِكِه، ولا ولدٌ من والدِه"، لأقَدْتُها منكَ، فبرَّزَه وضربَه مئةَ سوطٍ، ثم قال: اذهبي فأنتِ حُرَّة لوجه الله، وأنتِ مولاةُ الله ورسوله (1) . قال أبو صالح: قال الليث: هذا معمولٌ به.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدانِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8101 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدانِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8101 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک لونڈی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: میرے آقا نے مجھ پر تہمت لگائی ہے اور مجھے آگ پر بٹھا دیا، جس کی وجہ سے میری شرمگاہ جل گئی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس نے تیرا کوئی گناہ دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تو نے اس کے سامنے خود کسی گناہ کا اقرار کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے کر آؤ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: کیا تم اللہ کے عذاب جیسا عذاب دیتے ہو؟ اس نے کہا: اے امیرالمومنین! مجھے اس کی ذات پر شک ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تو نے اس میں کوئی گناہ دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس نے خود اقرار کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہ سن رکھا ہوتا کہ ” مملوک کو اس کے مالک سے اور اولاد کو اس کے والد سے قصاص نہیں دلوایا جائے گا “ تو میں اس لونڈی کو قصاص ضرور دلواتا، پھر آپ نے اس کو 100 کوڑے مارے، اور لونڈی سے فرمایا: تو جا، تو اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہے، اور تو اللہ اور اس کے رسول کی باندی ہے۔ ٭٭ ابوصالح کہتے ہیں: لیث نے کہا: یہ حدیث معمول بہا نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی درج ذیل دو شاہد حدیثیں موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8300]
حدیث نمبر: 8301
أخبرَناه أبو جعفر بن دُحَيم، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا مالك بن إسماعيل، حدثنا أبو شِهاب عبدُ ربِّه بن نافع عن حمزة الجَزَري، عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر، عن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن مَثَّل بعبدِه فهو حُرٌّ، وهو مولى اللهِ ورسولِه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8102 - حمزة هو النصيبي يضع الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8102 - حمزة هو النصيبي يضع الحديث
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، اس کا غلام آزاد ہے , اور اس کے بعد وہ اللہ اور اس کے رسول کا غلام ہو جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8301]