🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. إذا أراد الله بعبد خيرا عجل عقوبة ذنبه
جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے گناہ کی سزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8332
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدَّثنا عفان بن مسلم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عبد الله بن مُغفَّل: أنَّ امرأةً كانت بَغيًّا في الجاهلية مرَّ بها رجلٌ فَبَسَطَ يده إليها ولاعَبَها، فقالت: مَهُ، إِنَّ الله تعالى ذهب بالشِّرك وجاءَ بالإسلام، فتركها وولَّى، فجعل يلتفتُ يَنظُرُ إليها حتى أصابَ وجهُه الحائط، قال: فأتى النبيَّ ﷺ فذَكَرَ ذلك له، فقال:"أنت عبدٌ أرادَ الله بك خيرًا، إنَّ الله إذا أراد بعبدٍ خيرًا عَجَّلَ له عقوبةَ ذنبِه، وإذا أراد بعيدٍ شرًّا أمسَكَ عليه العقوبةَ بذنبِه حتى يُوافِيَ به يومَ القيامة كأنه عَيْرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8133 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں ایک طوائفہ تھی، اس کے پاس سے ایک مرد گزرا، اس مرد نے اپنا ہاتھ اس عورت کی جانب بڑھایا، عورت نے کہا: رک جا، اللہ تعالیٰ نے شرک کو ختم کر دیا ہے اور اسلام لے آیا ہے، اس آدمی نے اس کو چھوڑ دیا اور واپس آ گیا، وہ اس عورت کی طرف دیکھتا ہوا جا رہا تھا کہ اس کا منہ دیوار سے ٹکرا گیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور سارا ماجرا سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہ آدمی ہو، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ فرمایا، بے شک اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا جلد ہی دے دیتا ہے، اور جب بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی سزا میں تاخیر کرتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن اس کو اس گناہ کی سزا دے گا، اور اس وقت تک اس کا گناہ بہت بڑا ہو چکا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8332]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8332 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وسلف برقم (1307).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'صحیح' ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (1307) کے تحت گزر چکی ہے۔
قوله: "كأنه عَير"، أي: كأنَّ ذنوبه مثل عير، وهو جبل بالمدينة المنورة.
📝 نوٹ / توضیح: مصنف کا قول: "كأنه عَير"، کا مطلب ہے کہ گویا ان کے گناہ "عیر" کی طرح ہیں، اور "عیر" مدینہ منورہ میں ایک مشہور پہاڑ کا نام ہے۔