المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. النهي عن التجسس
جاسوسی اور عیب جوئی کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 8333
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا الأسود بن عامر شاذانُ، حدَّثنا هُرَيم (1) بن سفيان البَجَلي، عن بَيَان بن بِشر، عن قيس بن أبي حازم، عن أبي شَهْم، قال: كنتُ بالمدينة، فمرَّتْ بي جاريةٌ فأخذتُ بكَشحِها، ثم أتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يبايعُ الناسَ، فقال لي:"ألستَ صاحبَ الجَبْذةِ بالأمسِ؟" قلت: لا أعودُ يا رسولَ الله، فبايَعَني (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8134 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8134 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوشہم فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تھا، میرے پاس سے ایک لڑکی گزری، میں نے اس کو پہلو سے پکڑ لیا (لیکن فوراً اس کو چھوڑ دیا، اگلے دن) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے بیعت لے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا کل تو نے ایک لڑکی کو نہیں چھیڑا تھا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کے بعد میں یہ گناہ کبھی نہیں کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیعت لے لی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8333]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8333 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: إبراهيم، وفي (ك) إلى: هيم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "إبراهيم" بن گیا ہے، جبکہ نسخہ (ك) میں تحریف ہو کر "هيم" لکھا گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22511)، والنسائي (7288) من طريق أسود بن عامر، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: امام احمد 37/ (22511) اور نسائی (7288) نے اس روایت کو اسود بن عامر کے طریق سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22512) من طريق يزيد بن عطاء، عن بيان بن بشر، به.
🧩 متابعات و شواہد: اور امام احمد (22512) نے اسے یزید بن عطاء کے طریق سے، بیان بن بشر سے روایت کیا ہے۔