🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. لكل داء دواء ، فإذا أصيب دواء الداء برأ
ہر بیماری کی دوا ہے، جب دوا بیماری تک پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8422
أخبرَناه أبو بكر الشافعي، حدثني إسحاق بن الحسن الحَرْبيّ، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَجَاء، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن أبي إسحاق، فذكر الحديث (1) . قال الحاكم ﵁: قد ذكرتُ من طُرق هذا الحديثِ أقلَّ من النصف، فإني تَتبَّعتُ من اتفق الشيخانِ ﵄ على الحُجَّة به في"الصحيحين"، وبقي في كتابي أكثرُ من النِّصف ليتأمّلَ طالبُ هذا العلم: أيُترَكُ مثل هذا الحديث على اشتهاره وكثرة رواته، بأن لا يوجد له عن الصحابي إلَّا تابعيٌّ واحد مقبول ثقة؟ قال لي أبو الحسن علي بن عمر الحافظ ﵀: لِمَ أسقطا حديثَ أسامة بن شريك من الكتابين؟ قلت: لأنهما لم يَجِدَا لأسامة بن شَريك راويًا غيرَ زياد بن علاقة. فحدَّثني أبو الحسن ﵁، وكتبه لي بخطِّه، قال: قد أخرج البخاري ﵀ عن يحيى بن حمَّاد، عن أبي عَوانة عن بَيَان بن بِشْر، عن قيس بن أبي حازم، عن مِرْداسٍ الأسلميّ، عن النَّبِيّ ﷺ أنه قال:"يذهبُ الصالحون أسلافًا" الحديث (2) ، وليس لمِرداس راوٍ غيرُ قيس. وقد أخرج البخاري (3) حديثين عن زُهرة بن مَعبَد، عن جَدِّه عبد الله بن هشام بن زُهْرة، عن النَّبِيِّ ﷺ، وليس لعبد الله راوٍ غيرُ زُهْرة. وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديث قيس بن أبي حازم، عن عَدِيّ بن عَميرة، عن النَّبِيّ ﷺ أنه قال:"مَن استعملناه على عمل" (4) ، وليس لعَديّ بن عَميرة راوٍ غيرُ قيس (5) . وقد اتفقا جميعًا على حديث مَجْزَأة بن زاهر الأسلميّ، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ في النهي عن لحوم الحُمُر الأهليّة (1) ، وليس لزاهرٍ راوٍ غيرُ مَجْزأة. وأخرَج البخاري حديث الحسن عن عَمرو بن تَغلِبَ (2) ، وليس لعمرو راوٍ غيرُ الحسن (3) ، وأخرج أيضًا حديث الزُّهْري (4) ، وأخرجا جميعًا حديث الحسن عن عمرو بن تَغلِب، وليس له راو غيرُ الحسن (5) . وحديث زياد بن عِلاقة عن أسامة بن شَريك أصحُّ وأشهرُ وأكثرُ رواةً من هذه الأحاديث، قال أبو الحسن: وقد روى عليُّ بن الأقمر ومجاهد عن أسامة بن شَريك (6) . وقد رُوي هذا الحديث عن جابر بن عبد الله وأبي سعيد الخُدْري عن رسول الله ﷺ. أما حديث جابر:
اسرائیل نے ابواسحاق سے روایت کی ہے، اس کے بعد سابقہ حدیث بیان کی۔ امام حاکم کہتے ہیں: میں نے اسناد کے جو طرق بیان کئے ہیں، یہ نصف سے بھی کم ہیں، کیونکہ میں نے صرف ان راویوں کی روایات جمع کی ہیں جن کی روایات سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتابوں میں دلیل لاتے ہیں، اور آدھی سے زیادہ اسانید لکھنے سے رہ گئی ہیں، اس فن کے طالب علم کو غور کرنا چاہئے کہ کیا ایسی حدیث جس کے شواہد بھی موجود ہوں، جس کے راوی بکثرت موجود ہوں ایسی حدیث کو یہ کہہ کر ترک کیا جا سکتا ہے؟ کہ اس میں صحابی سے روایت کرنے والا صرف ایک تابعی ہے وہ مقبول ہے، ثقہ ہے۔ ابوالحسن علی بن عمر الحافظ نے مجھ سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسامہ بن شریک کی یہ حدیث اپنی اپنی کتاب میں درج نہیں کی؟ میں نے کہا: اس لئے کہ ان کو اسامہ بن شریک سے روایت لینے والا تابعی زیاد بن علاقہ کے سوا كوئی نہیں ملا۔ جبكہ ابوالحسن نے مجھے بتایا انہوں نے اپنے ہاتھ سے اس كو لكھا كہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یحیی بن حماد سے، انہوں نے ابوعوانہ سے، انہوں نے بیان بن بشر سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، اور انہوں نے مرداس اسلمی سے روایت كیا ہے كہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صالحین، گزشتہ بزرگوں سے آگے نكل جائیں گے۔ (اس کے بعد پوری حدیث بیان كی) اس حدیث میں مرداس سے روایت لینے والا تابعی، قیس کے علاوہ دوسرا كوئی بھی نہیں ہے۔ یونہی امام بخاری نے زہرہ بن معبد کے واسطے سے، ان کے دادا عبداللہ بن ہشام بن زہرہ کے حوالے سے نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو حدیثیں روایت كی ہیں، اس میں عبداللہ سے روایت لینے والا، تابعی زہرہ کے سوا دوسرا كوئی نہیں ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے قیس بن ابی حازم کے واسطے سے عدی بن عمیرہ کے حوالے سے نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كی حدیث من استعملناہ علی عمل (ہم جس كے سپرد كوئی كام كر دیں) روایت كی ہے، اس میں عدی بن عمیرہ سے روایت كرنے والا تابعی قیس کے علاوہ دوسرا كوئی نہیں ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے مجزاۃ بن زاہر اسلمی کے واسطے سے، ان کے والد کے حوالے سے وہ حدیث بیان كی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے اس حدیث میں زاہر سے روایت کرنے والا، ان کے بیٹے مجزاۃ کے علاوہ دوسرا کوئی نہیں ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حسن کے واسطے سے عمرو بن تغلب سے حدیث روایت کی ہے، اس میں عمرو سے روایت لینے والا، حسن کے علاوہ دوسرا کوئی راوی نہیں ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے حسن کے واسطے سے عمرو بن تغلب کی روایت نقل کی ہے، اس میں بھی حسن کے علاوہ عمرو سے روایت لینے والا دوسرا کوئی راوی نہیں ہے۔ جب كہ زیادہ بن علاقہ كی اسامہ بن شریک سے روایت كردہ حدیث تو اصح ہے، اشہر ہے، اور ان مذكورہ احادیث سے زیادہ اس کے راوی ہیں۔ ابوالحسن كہتے ہیں: عمر بن الارقم اور مجاہد نے بھی اسامہ بن شریک سے یہ حدیث روایت كی ہے۔ اور یہ حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8422]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8422 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل عبد الله بن رجاء وهو أبو عمر الغُدَاني. وأبو إسحاق - وهو عمرو بن عبد الله السَّبيعي - يرويه عن زياد بن علاقة كما في "إتحاف المهرة" لابن حجر.
⚖️ درجۂ حدیث: عبداللہ بن رجاء (جو ابو عمر الغدانی ہیں) کی وجہ سے اس کی سند قوی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ابو اسحاق (جو عمرو بن عبداللہ السبیعی ہیں) اسے زیاد بن علاقہ سے روایت کرتے ہیں جیسا کہ ابن حجر کی 📖 حوالہ / مصدر: "إتحاف المهرة" میں ہے۔
(2) "صحيح البخاري" (6434) بنحوه.
🧩 متابعات و شواہد: یہ روایت 📖 حوالہ / مصدر: "صحیح بخاری" (6434) میں اسی طرح موجود ہے۔
(3) "صحيح البخاري (2501، 2502) و (6632).
🧩 متابعات و شواہد: دیکھیے 📖 حوالہ / مصدر: "صحیح بخاری" (2501، 2502) اور (6632)۔
(4) الحديث في "صحيح مسلم" (1833) وحده، ولم يخرجه البخاري.
🧩 متابعات و شواہد: یہ حدیث صرف 📖 حوالہ / مصدر: "صحیح مسلم" (1833) میں ہے، بخاری نے اس کی تخریج نہیں کی۔
(5) في "تهذيب الكمال" للمزِّي 19/ 537: روى عنه رجاء بن حيوة وابنه عدي بن عدي - وقيل: لم يسمع منه - والعُرس بن عميرة وقيس بن أبي حازم، وقيل: إنَّ الذي روى عنه قيس بن أبي حازم آخر.
🧾 تفصیلِ روایت: مزی کی 📖 حوالہ / مصدر: "تہذیب الکمال" 19/ 537 میں ہے کہ ان سے رجاء بن حیوہ، ان کے بیٹے عدی بن عدی (جن کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے سنا نہیں)، العرس بن عمیرہ اور قیس بن ابی حازم نے روایت کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس قیس بن ابی حازم نے ان سے روایت کی وہ کوئی اور (مختلف شخص) ہے۔
(1) هو في "صحيح البخاري" (4173) وحده، ولم يخرجه مسلم.
🧩 متابعات و شواہد: یہ صرف 📖 حوالہ / مصدر: "صحیح بخاری" (4173) میں ہے، مسلم نے اس کی تخریج نہیں کی۔
(2) "صحيح البخاري" (923) و (2927).
🧩 متابعات و شواہد: دیکھیے 📖 حوالہ / مصدر: "صحیح بخاری" (923) اور (2927)۔
(3) في "تهذيب الكمال" 21/ 552: عمرو بن تغلب روى عنه الحسن البصري ولم يرو عنه غيره، قاله غير واحد، وقال أبو عمر بن عبد البر: روى عنه الحسن بن أبي الحسن والحكم بن الأعرج!
🧾 تفصیلِ روایت: 📖 حوالہ / مصدر: "تہذیب الکمال" 21/ 552 میں ہے: عمرو بن تغلب سے صرف حسن بصری نے روایت کی ہے اور ان کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی، یہ بات متعدد محدثین نے کہی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ ابو عمر بن عبدالبر نے کہا: ان سے حسن بن ابی الحسن اور حکم بن الاعرج نے روایت کی ہے!
(4) هكذا في النسخ الخطية، وهنا سقطٌ، وتتمته - كما في "الإلزامات" للدارقطني ص 74 - : عن عبد الله بن ثعلبة بن صُعَير: مسح النَّبِيّ ﷺ وجهَه، ولم يرو عنه غير الزهري. انتهى، وهو في "صحيحه" (4300) و (6356).
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں کچھ الفاظ ساقط (غائب) ہیں، جن کی تکمیل دارقطنی کی کتاب 📖 حوالہ / مصدر: "الإلزامات" ص 74 سے یوں ہوتی ہے: "عن عبد الله بن ثعلبة بن صُعَير: مسح النَّبِيّ ﷺ وجهَه" (عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا)، اور ان سے زہری کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔ انتہیٰ۔ 🧩 متابعات و شواہد: یہ روایت "صحیح" (4300) اور (6356) میں موجود ہے۔
(5) هكذا في النسخ الخطية وهي مكررة، وعزاه قبل هذا للبخاري، ولم يخرج مسلم للحسن عن عمرو بن تغلب.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ عبارت مکرر (دوبارہ) آگئی ہے۔ اسے پہلے بخاری کی طرف منسوب کیا گیا تھا، جبکہ امام مسلم نے حسن کی عمرو بن تغلب سے کوئی روایت تخریج نہیں کی۔
(6) أما رواية علي بن الأقمر عنه فوقعت عند الطبراني في "الكبير" (495) لكن من رواية محمد بن عبيد الله العرزمي عنه، والعرزمي هذا متروك الحديث فلا عبرة بروايته، وأما رواية مجاهد عنه فهي عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 43/ 402 وفي سندها إليه شريك النخعي، وهو سيئ الحفظ وقد شكَّ فيه هل هو أسامة بن شريك أم ابن زيد؟ وبذلك لا يَسلَم له من الرواة غير زياد بن علاقة، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: جہاں تک ان سے علی بن الاقمر کی روایت کا تعلق ہے تو وہ طبرانی کی 📖 حوالہ / مصدر: "الکبیر" (495) میں ہے لیکن وہ محمد بن عبیداللہ العرزمی کے واسطے سے ہے اور یہ العرزمی "متروک الحدیث" ہے، لہٰذا اس کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: جہاں تک مجاہد کی روایت کا تعلق ہے تو وہ ابن عساکر کی 📖 حوالہ / مصدر: "تاریخ دمشق" 43/ 402 میں ہے اور اس کی سند میں شریک النخعی ہے جو "سییٔ الحفظ" (خراب حافظے والا) ہے اور اس میں شک بھی واقع ہوا ہے کہ وہ اسامہ بن شریک ہے یا ابن زید؟ 📌 اہم نکتہ: اس بنا پر راویوں میں سے سوائے زیاد بن علاقہ کے کوئی محفوظ نہیں رہتا، واللہ تعالیٰ اعلم۔