المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. التمر يضر بالرمد
آنکھوں کی بیماری (آشوبِ چشم) میں کھجور نقصان دہ ہے
حدیث نمبر: 8467
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن يونس القُرشي، حَدَّثَنَا بشر بن حُجْر السامِيّ (4) ، حَدَّثَنَا فُضيل بن عِيَاض، عن ليث، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"ما من أحدٍ إِلَّا وفي رأسه عُروقٌ من الجُذَامِ تَنعَرُ، فإذا هاجَ سلَّط الله عليه الزُّكامَ، فلا تَداوَوْا له" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8262 - كأنه موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8262 - كأنه موضوع
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر شخص کے سر میں جذام کی ایک رگ ہے جس میں خون جوش مارتا رہتا ہے، جب اس کا جوش حد سے زیادہ بڑھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر زکام مسلط فرما دیتا ہے، اس لیے زکام کی دوا مت لیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8467]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8467 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: السلمي. وذكره ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 2/ 355 وقال: ليس به بأس قد كتبت عنه وكان صدوقًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "السلمی" بن گیا ہے۔ ابن ابی حاتم نے 📖 حوالہ / مصدر: "الجرح والتعديل" 2/ 355 میں ان کا ذکر کیا اور فرمایا: "اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے اس سے لکھا ہے اور یہ صدوق تھا۔"
(5) إسناده واهٍ، محمد بن يونس القرشي - وهو الكُديمي - ضعيف جدًّا واتهمه بعضهم بالكذب، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" فقال: كأنه موضوع والكديمي متهم. قلنا: فهو علّة الإسناد، وفيه أيضًا ليث بن أبي سليم، وهو ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہ" (بہت کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن یونس القرشی (جو الکدیمی ہیں) سخت ضعیف ہیں اور بعض نے ان پر جھوٹ کا الزام (اتہم بالکذب) لگایا ہے، ذہبی نے "التلخیص" میں اسے انہی کی وجہ سے معلول قرار دیا اور کہا: "گویا یہ من گھڑت ہے اور کدیمی متہم ہے۔" 📌 اہم نکتہ: ہم کہتے ہیں: یہی سند کی علت ہے، اور اس میں لیث بن ابی سلیم بھی ہے جو کہ ضعیف ہے۔
وأخرجه السمعاني في "معجم شيوخه" ص 297 - 298، وابن الجوزي في "الموضوعات" (1714) من طريقين عن محمد بن يونس، بهذا الإسناد. وسقط ابن عباس من إسناد ابن الجوزي.
🧩 متابعات و شواہد: اسے سمعانی نے "معجم شیوخہ" ص 297-298، اور ابن الجوزی نے "الموضوعات" (1714) میں محمد بن یونس سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اور ابن الجوزی کی سند سے ابن عباس (کا نام) ساقط ہے۔