المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. ذكر رقية النملة
پھوڑے پھنسی (نملہ) کے لیے دم کا ذکر
حدیث نمبر: 8479
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا السَّرِي بن خُزيمة والفَضْل بن محمد قالا: حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُويس، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حَبيبة، عن داود بن الحُصين، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُعلِّمهم من الأوجاع ولمن يَحمَى (1) أن يقول:"باسم الله الكبير، نعوذُ بالله العظيم من شرِّ عِرْق نَعَّار، ومن شرِّ حرِّ النار" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درد اور بخار کے لیے ہمیں یہ دم سکھایا کرتے تھے۔ بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ، نَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقِ نَعَّارٍ وَمَنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ ” اس اللہ کے نام سے شروع جو کبیر ہے، ہم عظمت والے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہر اس زخم سے جس سے خون پھوٹ پھوٹ کر نکلتا ہے، عرق سے اور دوزخ کی آگ کے شر سے “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8479]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8479 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) أي: تصيبه الحُمَّى.
📝 نوٹ / توضیح: یعنی: اسے بخار ہو جائے۔
(2) إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن أبي حبيبة، وإسماعيل بن أبي أُويس - وإن كان فيه لِين - قد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم بن ابی حبیبہ کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ اور اسماعیل بن ابی اویس - اگرچہ ان میں "لین" (کمزوری) ہے - لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه أحمد 4 / (2729)، وابن ماجه (3526)، والترمذي (2075) من طرق عن إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: هذا حديث غريب لا نعرفه، إلّا من حديث إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة، وإبراهيم يضعَّف في الحديث.
🧩 متابعات و شواہد: اسے احمد 4/ (2729)، ابن ماجہ (3526)، اور ترمذی (2075) نے ابراہیم بن اسماعیل بن ابی حبیبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "غریب" ہے، ہم اسے صرف ابراہیم بن اسماعیل بن ابی حبیبہ کی حدیث سے جانتے ہیں، اور ابراہیم حدیث میں ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔
والعرق النعّار: الذي يفور منه الدم.
📝 نوٹ / توضیح: "العرق النعّار": وہ رگ جس سے خون ابلتا (پھوٹتا) ہو۔