🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. إخبار النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - بخسف جيش يعمدون البيت
نبی کریم ﷺ کا اس لشکر کے دھنسائے جانے کی خبر دینا جو بیت اللہ کا قصد کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8527
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن شَيْبان الرَّمْلي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن أُمية بن صفوان بن عبد الله بن صفوان، سمع جدَّه عبد الله بن صفوان يقول: حدثتني حَفْصة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَيَؤُمَّنَّ هذا البيت جيشٌ يَعْزُونَه، حتى إذا كانوا ببَيداءَ من الأرض خُسِفَ بأوسطِهم، فيَتَنادَوْن أولُهم وآخرُهم، فيُخسَفُ بهم خَسْفًا لا يَنجُو إِلَّا الشَّريدُ الذي يُخبر عنهم". فقال له رجل: أشهدُ عليك ما كذبت على جدِّك، وأشهدُ على جدِّك أنه ما كذب على حفصةَ، وأشهدُ على حفصةَ أنها لم تَكذِب على النبي ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8322 - صحيح
ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بیت اللہ محفوظ رکھا جائے گا، ایک لشكر اس پر چڑھائی کے لئے آئے گا، جب وہ ہموار زمین پر ہو گا تو اس کا درمیان والا حصہ زمین میں دھنسا دیا جائے گا، وہ اپنے اگلوں اور پچھلوں کو آوازیں دیں گے، لیکن ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، سوائے ایک آدمی کے، کہ وہ ان کے بارے میں باقی لشکر والوں کو بتائے گا۔ ایک آدمی اس سے کہے گا، میں تجھ پر گواہی دیتا ہوں، کہ تو نے اپنے دادا پر جھوٹ نہیں بولا، میں تیرے دادا کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے سیدہ حفصہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بولا، میں سیدہ حفصہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ نہیں بولا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8527]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8527 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 44 / (26444)، ومسلم (2883) (6)، وابن ماجه (4063)، والنسائي (3849) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (44 / 26444)، مسلم (2883 / 6)، ابن ماجہ (4063) اور نسائی (3849) نے سفیان بن عیینہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: لہٰذا حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا وہم/چوک ہے۔
وأخرجه بنحوه مسلم (2883) (7) من طريق يوسف بن ماهك، عن عبد الله بن صفوان، عن أم المؤمنين. ولم يسمِّها.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (2883 / 7) نے یوسف بن ماہک کے طریق سے، عبد اللہ بن صفوان سے اور انہوں نے ام المؤمنین سے (اسی طرح) روایت کیا ہے، لیکن ام المؤمنین کا نام ذکر نہیں کیا۔