🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. إخبار النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - بخسف جيش يعمدون البيت
نبی کریم ﷺ کا اس لشکر کے دھنسائے جانے کی خبر دینا جو بیت اللہ کا قصد کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8528
حدثني أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدَانَ الجَلّاب بهَمَذان - وأنا سألته - حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا عمر بن حفص بن غِيَاثَ النَّخَعي، حدثنا أَبي، عن مِسعَر، عن طلحة بن مُصرِّف، عن أبي مُسلِم الأغرِّ، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"لا تنتهي البعوثُ عن غَزْوِ بيتِ الله تعالى حتى يُخسَفَ بجيشٍ منهم" (2) .
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه. ولا أعلم أحدًا حدَّث به غيرَ عمر بن حفص بن غِيَاث، تفرَّد به عنه (3) الإمام أبو حاتم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8323 - قال الذهبي صحيح غريب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیت اللہ کے جہاد سے لشکر ختم نہیں ہوں گے حتی کہ ان میں سے ایک لشکر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث غریب ہے، صحیح ہے، اس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیا۔ امام حاکم کہتے ہیں: مجھے نہیں پتا کہ اس حدیث کو عمر بن حفص بن غیاث کے علاوہ کسی نے روایت کیا ہو، ان سے امام ابوحاتم روایت کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8528]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8528 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (3847) عن أبي حاتم الرازي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (3847) نے ابو حاتم رازی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر حديث أبي سلمة عن أبي هريرة في قصة السفياني الآتي عند المصنف برقم (8799).
📝 نوٹ / توضیح: سفیانی کے قصے میں ابو سلمہ عن ابی ہریرہ کی حدیث دیکھیں جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (8799) پر آ رہی ہے۔
(3) تحرَّفت هذه العبارة في (ز) و (ك) و (م) إلى: تعدد به عند، وفي (ب): يرويه عنه، والمثبت هو الصواب كما صوَّبت في (م).
📝 نوٹ / توضیح: یہ عبارت نسخہ (ز)، (ک) اور (م) میں تحریف ہو کر "تعدد بہ عند" ہو گئی، اور (ب) میں "یرویہ عنہ"۔ جبکہ جو ہم نے متن میں ثابت کیا ہے وہی درست ہے جیسا کہ نسخہ (م) میں تصحیح کی گئی ہے۔
وأبو حاتم لم يتفرَّد به كما زعم المصنف - وإن كان أهلًا للتفرد - فقد رواه أيضًا عبيد بن غنام ابن أخي عمر بن حفص عند أبي نعيم في "حلية الأولياء" 7/ 244 فقال: وجدتُ في كتاب عمِّي عمر بن حفص بن غياث … وذكره.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو حاتم اس روایت میں منفرد نہیں ہیں جیسا کہ مصنف (حاکم) نے گمان کیا (اگرچہ وہ تفرد کے اہل ہیں)۔ کیونکہ اسے عبید بن غنام (جو عمر بن حفص کے بھتیجے ہیں) نے بھی ابو نعیم کی "حلیۃ الاولیاء" (7/ 244) میں روایت کیا ہے؛ انہوں نے کہا: "میں نے اپنے چچا عمر بن حفص بن غیاث کی کتاب میں پایا..." اور پھر حدیث ذکر کی۔