المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. قال النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - : " ستفترق أمتي على بضع وسبعين فرقة "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی
حدیث نمبر: 8529
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن الوليد بن مَزيَد البَيروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد (1) بن جابر، أنه سمع سُلَيم بن عامر يقول: سمعت المقدادَ بن الأَسود الكِندي يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا يبقى على ظهر الأرض من بيت مَدَرٍ ولا وَبَرٍ إِلَّا أدخل الله عليهم كلمة الإسلام، بعِزِّ عزيزٍ أو ذُلِّ ذليل، يُعزِّهم الله فيجعلُهم من أهلِها، أو يُذلُّهم فيَدِينون (2) لها" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8324 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8324 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مقداد بن اسود الکندی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روئے زمین پر کوئی کچا اور کوئی پکا مکان ایسا نہیں بچے گا، جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کو داخل نہیں کر دے گا، عزت والے کو عزت کے ساتھ اسلام ملے گا اور ذلیل کو ذلت کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو عزت دے گا، اور ان کو عزت والا بنا دے گا، یا ان کو ذلیل کرے گا، تو وہ اس دین کو نہیں اپنائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8529]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8529 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: زيد.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "زید" بن گیا ہے۔
(2) في (ز) و (ك) و (م): فيدينوا، بحذف نون الرفع، وقد حُكي حذفها في بعض لغات العرب كما ذكر أهل النحو، والمثبت من (ب) بإثباتها، وهو الجادّة.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ک) اور (م) میں یہ لفظ "فیدینوا" (نونِ رفع کے حذف کے ساتھ) ہے؛ اہل نحو کے مطابق عربوں کی بعض لغات میں نون کا حذف ہونا منقول ہے، لیکن نسخہ (ب) سے ہم نے اسے "نون" کے اثبات کے ساتھ لکھا ہے، اور یہی (نحوی اعتبار سے) سیدھا راستہ (اصل قاعدہ) ہے۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23814)، وابن حبان (6699) و (6701) من طريق الوليد بن مسلم، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (39 / 23814) اور ابن حبان (6699، 6701) نے ولید بن مسلم کے طریق سے، عبد الرحمن بن یزید بن جابر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وانظر الحديث الآتي برقم (8531).
📝 نوٹ / توضیح: آگے آنے والی حدیث نمبر (8531) ملاحظہ کریں۔
والمراد ببيت المدَر أهلُ المدن والقرى، والمَدَر: هو الطِّين، وببيت الوَبَر أهلُ البوادي.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "بیت المدر" سے مراد شہروں اور بستیوں کے رہنے والے ہیں (مدر کا مطلب گیلی مٹی/گارا ہے)، اور "بیت الوبر" سے مراد دیہاتوں/صحراؤں کے رہنے والے (خانہ بدوش) ہیں۔