🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. إِخْبَارُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِفِتْنَةِ عُثْمَانَ
نبی کریم ﷺ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے (شہادت) کے بارے میں خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8540
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب بن خالد، أخبرنا موسى بن عُقبة، أخبرني جدِّي أبو أُمِّي أبو حَبِيبة (1) : أنه دخل الدارَ وعثمانُ محصورٌ فيها، وأنه سمع أبا هريرة يستأذنُ عثمان في الكلام، فأَذِنَ، له، فقام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ستَلقَونَ بعدي فتنةً واختلافًا" أو قال:"اختلافًا وفتنة"، فقال له قائل: يا رسول الله، بمَ (2) تأمرنا؟ قال:"عليكم بالأمير وأصحابه"، وهو يشيرُ بذلك إلى عثمان (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8335 - صحيح
ابوحبیبہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے جبکہ آپ محصور تھے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کی اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دی تو وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میرے بعد فتنوں اور اختلاف سے ملو گے، کسی کہنے والے نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8540]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي حبيب» [ترقيم الرساله 8540] [ترقيم الشركة 8437] [ترقيم العلميه 8335]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8540 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في (ك) و (م) إلى: أبو حية.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ک) اور (م) میں یہ تحریف ہو کر "ابو حیۃ" ہو گیا ہے۔
(2) في النسخ الخطية: أو بما، وهو خطأ، وفي "تلخيص الذهبي": بما، بألف، وهو جائز، والجادَّة حذف الألف.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "او بما" ہے جو کہ غلط ہے۔ ذہبی کی "تلخیص" میں "بما" (الف کے ساتھ) ہے جو کہ جائز ہے، لیکن اصل قاعدہ (جادۃ) الف کا حذف ہونا ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل أبي حبيب. وقد سلف برقم (4591).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "ابو حبیب" کی وجہ سے "حسن" ہے۔ اور یہ نمبر (4591) پر گزر چکی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8540 in Urdu