المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. إخبار النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - بفتنة عثمان
نبی کریم ﷺ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے (شہادت) کے بارے میں خبر دینا
حدیث نمبر: 8540
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب بن خالد، أخبرنا موسى بن عُقبة، أخبرني جدِّي أبو أُمِّي أبو حَبِيبة (1) : أنه دخل الدارَ وعثمانُ محصورٌ فيها، وأنه سمع أبا هريرة يستأذنُ عثمان في الكلام، فأَذِنَ، له، فقام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ستَلقَونَ بعدي فتنةً واختلافًا" أو قال:"اختلافًا وفتنة"، فقال له قائل: يا رسول الله، بمَ (2) تأمرنا؟ قال:"عليكم بالأمير وأصحابه"، وهو يشيرُ بذلك إلى عثمان (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8335 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8335 - صحيح
ابوحبیبہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حویلی میں گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اس وقت محاصرہ ہو چکا تھا، انہوں نے سنا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی اجازت مانگی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت عطا فرمائی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میرے بعد فتنے اور اختلافات دیكھو گے، ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حالات میں آپ کا ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے امیر اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ رہنا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8540]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8540 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في (ك) و (م) إلى: أبو حية.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ک) اور (م) میں یہ تحریف ہو کر "ابو حیۃ" ہو گیا ہے۔
(2) في النسخ الخطية: أو بما، وهو خطأ، وفي "تلخيص الذهبي": بما، بألف، وهو جائز، والجادَّة حذف الألف.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "او بما" ہے جو کہ غلط ہے۔ ذہبی کی "تلخیص" میں "بما" (الف کے ساتھ) ہے جو کہ جائز ہے، لیکن اصل قاعدہ (جادۃ) الف کا حذف ہونا ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل أبي حبيب. وقد سلف برقم (4591).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "ابو حبیب" کی وجہ سے "حسن" ہے۔ اور یہ نمبر (4591) پر گزر چکی ہے۔