🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. إخبار النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - بفتنة عثمان
نبی کریم ﷺ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے (شہادت) کے بارے میں خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8541
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكر بن سَوَادة الجُذَامِيَّ حدثه، أنَّ سُحَيمًا حدَّثه عن رُوَيفِع بن ثابت الأنصاري أنه قال: قُرِّبَ لرسول الله ﷺ تمرٌ ورُطَبٌ (4) ، فأكلوا منه حتى لم يُبقُوا شيئًا إِلَّا نَواه وما لا خير فيه، فقال رسول الله ﷺ:"تدرون ما هذا؟ تذهَبون الخيِّر فالخيِّرَ، حتى لا يبقى منكم إِلَّا مثلُ هذا" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الصحيحُ حديث أبي حُميد الطاعِني الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8336 - صحيح
سیدنا رويفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں خشک اور تر کھجوریں پیش کی گئیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھا کر وہ سب ختم کر دیں، سوائے ایک گٹھلی کے اور سوائے اس چیز کے جو کسی کام کی نہیں تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ یہ کیا چیز ہے؟ تم میں اچھے لوگ ایک ایک کر کے جاتے رہیں گے حتی کہ تم میں سے صرف اس گٹھلی کی مانند لوگ رہ جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ٭٭ ابوحمید الطائی کی روایت کردہ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8541]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8541 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) في النسخ الخطية: تمرًا ورطبًا، والجادة ما أثبتنا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "تمراً و رطباً" ہے، جبکہ درست وہ ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے۔
(5) حسن لغيره، وهذا إسناد ليِّن من أجل سحيم، فإنه لا يُعرَف، وذكره ابن حبان في "الثقات" وكذا العجلي، وباقي رجاله ثقات.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اور یہ سند سحیم کی وجہ سے نرم (کمزور) ہے کیونکہ وہ معروف نہیں ہیں، اگرچہ ابن حبان اور عجلی نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے۔ باقی رجال ثقہ ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (7225) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7225) نے حرملہ بن یحییٰ کے طریق سے، عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة التالي.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) اگلی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے۔
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي حميد، وليس هو الطاعني كما توهم المصنف، وقد سبق بيانه فيما سلف برقم (8084).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، لیکن یہ سند ابو حمید کی وجہ سے ضعیف ہے، اور یہ (ابو حمید) "الطاعنی" نہیں ہیں جیسا کہ مصنف نے وہم کیا ہے۔ اس کی وضاحت پیچھے نمبر (8084) پر گزر چکی ہے۔