🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. كنا إذا فقدنا الإنسان فى صلاة العشاء الآخرة والصبح أسأنا به الظن
ہم جب کسی شخص کو عشاء اور فجر کی نماز میں غیر حاضر پاتے تو اس کے بارے میں برا گمان کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 858
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا وُهَيب بن خالد، حدثنا يحيى بن سعيد. وأخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا نُعَيم بن حمّاد، حدثنا عبد الله بن المبارَك، عن يحيى بن سعيد. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن النَّضْر الجارُودي، حدثنا بكر بن خلف، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، قال: سمعتُ يحيى بن سعيد يقول: سمعتُ نافعًا يحدِّث، أنَّ عبد الله بن عمر كان يقول: كنا إذا فَقَدْنا الإنسانَ في صلاة العشاءِ الآخِرة والصبحِ أسَأْنا به الظنَّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 764 - على شرطهما
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: جب ہم کسی شخص کو عشاء اور صبح کی نماز میں غائب پاتے تو اس کے بارے میں (نفاق کا) برا گمان کرتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 858]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 858 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. يحيى بن سعيد: هو ابن قيس الأنصاري المدني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یحییٰ بن سعید سے مراد ابن قیس الانصاری المدنی ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (2099) من طريق مروان بن معاوية، عن يحيى بن سعيد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2099) نے مروان بن معاویہ عن یحییٰ بن سعید کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔