المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. يبعث الله ريحا طيبا ، فيتوفى من كان فى قلبه من خير
اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں ذرہ برابر خیر ہوگی
حدیث نمبر: 8587
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصفهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن يونس بن عُبَيد، عن حميد بن هلال، عن عبد الله ابن الصامت قال: وددتُ أنَّ أهلي حين تعشوا عشاءَهم، واغْتَبَقُوا غَبوقهم، أصبحوا مَوْتى على فُرُشِهم، قيل: يا أبا فلان، ألستَ على غِنًى؟ قال: بلى، ولكني سمعت أبا ذر يقول: يوشك يا ابن أخي إنْ عِشتَ إلى قريبٍ أن ترى الرجل يُغْبَطُ بِخِفَّة الحالِ كما يُغبَط اليومَ [أبو العَشَرةِ الرِّجال، ويوشك إن عشت إلى قريبٍ أن ترى الرجل] (1) الذي لا يعرفه السلطان ولا يُدْنيه ولا يُكرمه، يُغبَطُ كما يُغبَطُ اليوم الذي يعرفه السلطانُ ويُدْنيه ويكرمه، ويوشك يا ابن أخي إن عشت إلى قريبٍ أن يُمَرَّ بالجنازة في السوق فيرفعُ الرجل رأسه فيقول: يا ليتني على أعوادها، قال: قلت: تدري ما بهم؟ قال: على ما كان قلت: إنَّ ذلك بين يَدَيْ أمرٍ عظيم [قال: أجل، عظيمٌ عظيمٌ عظيمٌ] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8382 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8382 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں چاہتا ہوں جب میرے گھر والے، رات کا کھانا کھا چکیں، اور رات کے مشروبات پی کر اپنے بستروں پر مردہ ہو جائیں، آپ سے کہا گیا: اے ابوفلاں! کیا تم مالدار نہیں ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” اے میرے بھتیجے! اگر تو زندہ رہا تو بہت جلد دیکھے گا کہ آدمی خفت حال پر بھی حسد کیا جائے گا جیسا کہ آج ایسے آدمی پر حسد ہوتا ہے جو 10 آدمیوں کا باپ ہو، اور اگر تو زندہ رہا تو بہت جلد دیکھے گا کہ ایک ایسا آدمی، جس کو بادشاہ جانتا پہچانتا نہیں تھا اور نہ وہ بادشاہ کے قریب تھا، اور نہ بادشاہ اس کی عزت کرتا ہے، اس پر بھی ایسے ہی حسد ہو گا جیسے آج اس شخص پر حسد کیا جاتا ہے جس کو بادشاہ پہچانتا ہے، اس کو اپنے قریب رکھتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ اے میرے بھتیجے اگر تو زندہ رہا تو بہت جلد دیکھے گا کہ بازار میں کوئی جنازہ گزرے گا، ایک آدمی اپنا سر اٹھا کر کہے گا: کاش کہ اس کی چارپائی پر میں ہوتا۔ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: آپ جانتے ہیں کہ ان کی حالت کیا ہو گی؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ اپنی سابقہ حالت پر ہوں گے۔ میں نے کہا: یہ تو بہت بڑا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں بہت بڑا، بہت بڑا، بہت بڑا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8587]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8587 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين سقط من (ك) و (م) و (ب)، وأثبتناه على الصواب من "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت نسخہ (ک)، (م) اور (ب) سے ساقط ہوگئی تھی، ہم نے اسے ذہبی کی "تلخیص" سے درست کر کے یہاں ثابت کیا ہے۔
(2) ما بين المعقوفين ليس في نسخنا الخطية، وأثبتناه من "التلخيص".
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں تھی، ہم نے اسے "تلخیص" سے لے کر یہاں درج کیا ہے۔
والخبر صحيح، وهذا إسناد فيه محمد بن إبراهيم الأصفهاني - وهو ابن أُورمة - وهو مجهول، لكنه لم ينفرد به.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں محمد بن ابراہیم الاصفہانی (جو ابن اورمہ ہیں) موجود ہیں اور وہ مجہول ہیں، لیکن وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہیں۔
فقد أخرجه المعافى بن عمران في "الزهد" (51) عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. والمعافى ثقة فقيه.
🧩 متابعات و شواہد: چنانچہ اسے معافی بن عمران نے "الزہد" (51) میں سفیان الثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور معافی ثقہ فقیہ ہیں۔
وأخرجه المعافي أيضًا (50)، وابن أبي الدنيا في "النفقة على العيال" (441) من طريق سليمان بن المغيرة، وابن أبي الدنيا في "المتمنين" (150) من طريق مبارك بن فضالة، كلاهما عن حميد بن هلال به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے معافی نے بھی (50) میں، ابن ابی الدنیا نے "النفقۃ علی العیال" (441) میں سلیمان بن مغیرہ کے طریق سے، اور ابن ابی الدنیا نے "المتمنین" (150) میں مبارک بن فضالہ کے طریق سے، اور ان دونوں نے حمید بن ہلال سے اسی طرح روایت کیا ہے۔