🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبًا، فَيُتَوَفَّى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ خَيْرٍ
اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں ذرہ برابر خیر ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8586
أخبرني محمد بن أحمد القنطري ببغداد، حدثنا أبو قلابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر [عن الأسود بن العلاء، عن أبي سلمة] (1) عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يذهب الليل والنهارُ حتى تُعبَدَ اللاتُ والعُزَّى" فقالت عائشة: فقلت: يا رسول الله، إني كنت أظنُّ حين أَنزل الله ﵎: ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾ [التوبة: 33] أَنَّ ذلك سيكون تامًّا، فقال:"إنه سيكون من ذلك ما شاء الله، ثم يَبعَثُ الله ريحًا طيبة فتتوفَّى من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من خير، فيبقى من لا خير فيه، فيرجعون إلى دين آبائهم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8381 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب و روز اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک (دوبارہ) لات اور عزیٰ کی پوجا نہ کی جانے لگے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا تو یہ گمان تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾ [سورة التوبة: 33] وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ تو یہ غلبہ مکمل اور دائمی رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً ایسا ہی ہوگا جب تک اللہ چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی خیر ہوگی، پھر صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر نہیں ہوگی، پس وہ اپنے آباؤ اجداد کے (شرکیہ) دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8586]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي» [ترقيم الرساله 8586] [ترقيم الشركة 8483] [ترقيم العلميه 8381]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8587
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصفهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن يونس بن عُبَيد، عن حميد بن هلال، عن عبد الله ابن الصامت قال: وددتُ أنَّ أهلي حين تعشوا عشاءَهم، واغْتَبَقُوا غَبوقهم، أصبحوا مَوْتى على فُرُشِهم، قيل: يا أبا فلان، ألستَ على غِنًى؟ قال: بلى، ولكني سمعت أبا ذر يقول: يوشك يا ابن أخي إنْ عِشتَ إلى قريبٍ أن ترى الرجل يُغْبَطُ بِخِفَّة الحالِ كما يُغبَط اليومَ [أبو العَشَرةِ الرِّجال، ويوشك إن عشت إلى قريبٍ أن ترى الرجل] (1) الذي لا يعرفه السلطان ولا يُدْنيه ولا يُكرمه، يُغبَطُ كما يُغبَطُ اليوم الذي يعرفه السلطانُ ويُدْنيه ويكرمه، ويوشك يا ابن أخي إن عشت إلى قريبٍ أن يُمَرَّ بالجنازة في السوق فيرفعُ الرجل رأسه فيقول: يا ليتني على أعوادها، قال: قلت: تدري ما بهم؟ قال: على ما كان قلت: إنَّ ذلك بين يَدَيْ أمرٍ عظيم [قال: أجل، عظيمٌ عظيمٌ عظيمٌ] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8382 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ جب میرے گھر والے رات کا کھانا کھا لیں اور اپنا مشروب پی لیں تو وہ اپنے بستروں پر مردہ حالت میں صبح کریں، ان سے کہا گیا: اے ابوفلاں! کیا آپ مالی طور پر خوش حال نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اے میرے بھتیجے! عنقریب اگر تم زندہ رہے تو ایسے شخص پر اس کے ہلکے حال (یعنی کم عیال اور کم مال) کی وجہ سے رشک کیا جائے گا جیسے آج دس بیٹوں والے پر رشک کیا جاتا ہے، اور عنقریب اگر تم جیتے رہے تو تم ایسے شخص کو دیکھو گے جسے نہ بادشاہ پہچانتا ہو، نہ اپنے قریب کرتا ہو اور نہ ہی اسے عزت دیتا ہو، مگر اس پر ایسے ہی رشک کیا جائے گا جیسے آج اس شخص پر رشک کیا جاتا ہے جسے بادشاہ جانتا ہو اور اسے قرب و عزت عطا کرتا ہو، اور اے میرے بھتیجے! عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب بازار سے جنازہ گزرے گا تو آدمی اپنا سر اٹھا کر (حسرت سے) کہے گا: کاش! میں اس کی جگہ ان لکڑیوں (جنازے) پر ہوتا، میں نے پوچھا: آپ جانتے ہیں کہ انہیں کیا (تکلیف) پہنچی ہوگی؟ انہوں نے کہا: جو کچھ بھی ہوا ہو، میں نے عرض کیا: یقیناً یہ کسی بڑے معاملے سے پہلے ہوگا؟ انہوں نے کہا: ہاں، بہت بڑے، بہت بڑے، بہت بڑے معاملے سے پہلے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8587]
تخریج الحدیث: «والخبر صحيح، وهذا إسناد فيه محمد بن إبراهيم الأصفهاني» [ترقيم الرساله 8587] [ترقيم الشركة 8484] [ترقيم العلميه 8382]

الحكم على الحديث: والخبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8588
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ (3) ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مهران، حدثنا صفوان بن صالح الدمشقي ومحمد بن المُصفّى الحمصي قالا: حدثنا مبشِّر بن إسماعيل الحلبي، حدثنا أَرْطأة بن المنذر قال: سمعت ضَمْرة بن حبيب يقول: سمعتُ سَلَمة بن نُفيل السَّكُوني يقول - وكان من أصحاب النبي ﷺ: بينا نحن جلوسٌ عند النبي ﷺ فجاء رجل فقال: يا نبي الله، هل أُتيتَ بطعام من السماء؟ فقال:"أُتِيت بطعام مسخنة" قال: فهل كان فيه فَضْل عنك؟ قال:"نعم"، قال: فما فُعِلَ به؟ قال:"رُفِعَ إلى السماء. وهو يُوحَى إليَّ أني غير لابثٍ فيكم إلا قليلًا، ولستم لابثين بعدي إلا قليلًا، بل تَلْبَثُون حتى تقولوا: مَتَى مَتَى (1) ؟ ثم تأتون أفنادًا ويُفْني بعضكم بعضًا، وبين يدي الساعة موتانٌ شديدٌ وسنواتُ الزلازل" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8383 - الخبر من غرائب الصحاح
سیدنا سلمہ بن نفیل السکونی رضی اللہ عنہ -جو کہ اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تھے- سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کے پاس آسمان سے کھانا لایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میرے پاس گرم کیا ہوا کھانا لایا گیا، اس نے پوچھا: کیا اس میں سے کچھ بچا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس نے پوچھا: اس کا کیا کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا، اور مجھ پر یہ وحی کی جا رہی ہے کہ میں تمہارے درمیان بس تھوڑا عرصہ ہی رہوں گا، اور تم بھی میرے بعد تھوڑی دیر ہی ٹھہرو گے، بلکہ تم اتنا ٹھہرو گے کہ (تنگ آ کر) کہو گے: کب ہوگا؟ کب ہوگا؟ پھر تم مختلف گروہ بن کر آؤ گے اور ایک دوسرے کو ہلاک کرو گے، اور قیامت سے پہلے شدید موت (وبائیں) اور زلزلوں کے سال ہوں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8588]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8588] [ترقيم الشركة 8485] [ترقيم العلميه 8383]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8589
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا رَيْحان بن سعيد، حدثنا عباد بن منصور، عن أيوب، عن أبي قلابة، حدثني أبو أسماء، عن ثَوْبان، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"لن تقوم الساعة على أمتي حتى تَلحَقَ قبائل منها بالمشركين، وحتى تَعبُدَ قبائل منها الأوثان" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8384 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت پر اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک اس کے کچھ قبائل مشرکوں سے نہ جا ملیں اور یہاں تک کہ میری امت کے قبائل بتوں کی پوجا نہ کرنے لگیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8589]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور، وريحان بن سعيد حسن الحديث في المتابعات والشواهد» [ترقيم الرساله 8589] [ترقيم الشركة 8486] [ترقيم العلميه 8384]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں