🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. يبعث الله ريحا طيبا ، فيتوفى من كان فى قلبه من خير
اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں ذرہ برابر خیر ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8588
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ (3) ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مهران، حدثنا صفوان بن صالح الدمشقي ومحمد بن المُصفّى الحمصي قالا: حدثنا مبشِّر بن إسماعيل الحلبي، حدثنا أَرْطأة بن المنذر قال: سمعت ضَمْرة بن حبيب يقول: سمعتُ سَلَمة بن نُفيل السَّكُوني يقول - وكان من أصحاب النبي ﷺ: بينا نحن جلوسٌ عند النبي ﷺ فجاء رجل فقال: يا نبي الله، هل أُتيتَ بطعام من السماء؟ فقال:"أُتِيت بطعام مسخنة" قال: فهل كان فيه فَضْل عنك؟ قال:"نعم"، قال: فما فُعِلَ به؟ قال:"رُفِعَ إلى السماء. وهو يُوحَى إليَّ أني غير لابثٍ فيكم إلا قليلًا، ولستم لابثين بعدي إلا قليلًا، بل تَلْبَثُون حتى تقولوا: مَتَى مَتَى (1) ؟ ثم تأتون أفنادًا ويُفْني بعضكم بعضًا، وبين يدي الساعة موتانٌ شديدٌ وسنواتُ الزلازل" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8383 - الخبر من غرائب الصحاح
سلمہ بن نفیل سکونی رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہے، آپ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کے پاس آسمانوں سے کھانا آتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس گرم کھانا ہے، اس نے کہا: اس میں سے آپ کے پاس کچھ بچا ہوا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: اس کا کیا بنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آسمان کی جانب اٹھا لیا گیا ہے، اور میری طرف وحی کی گئی ہے کہ میں تمہارے اندر زیادہ عرصہ نہیں ٹھہروں گا، اور میرے بعد تم بھی زیادہ عرصہ نہیں رہو گے، بلکہ تم رہو گے اور کہو گے: ہم کب تک اسی طرح زندہ ہی رہیں گے، پھر تم گروہ در گروہ آؤ گے۔ اور تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے، اور قیامت سے پہلے مہلک وبائی امراض پھیلیں گی اور اس کے بعد کئی سال زلزلے آئیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8588]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8588 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
أفنادًا: جماعات متفرقة.
📝 نوٹ / توضیح: "أفنادًا": یعنی متفرق جماعتیں (الگ الگ گروہ)۔
والموتان: كثرة الموت.
📝 نوٹ / توضیح: "الموتان": یعنی کثرت سے اموات (موت کی وبا)۔
(3) في النسخ الخطية: حدثنا أبو محمد جعفر بن صالح بن هانئ، وهو خطأ، وقد تكرر هذا الشيخ عند المصنف كثيرًا على الصواب.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "حدثنا أبو محمد جعفر بن صالح بن هانئ" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے، حالانکہ مصنف کے ہاں یہ شیخ اکثر مقامات پر درست نام کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں۔
(1) في النسخ الخطية: مثنى مثنى، وهو تحريف.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "مثنى مثنى" ہے، جو کہ تحریف ہے۔
(2) إسناده صحيح. وقال الذهبي في "تلخيصه": والخبر من غرائب الصِّحاح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں فرمایا: یہ خبر غرائبِ صحاح میں سے ہے۔
وأخرجه أحمد 28 / (16964)، وابن حبان (6777) من طريق أبي المغيرة عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، عن أرطاة بن المنذر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 28/ (16964) اور ابن حبان (6777) نے ابو المغیرہ عبدالقدوس بن حجاج الخولانی کے طریق سے، انہوں نے ارطاۃ بن المنذر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج بعضه ضمن لفظ آخر النسائي (4386) من طريق جبير بن نفير، عن سلمة بن نفيل.
📖 حوالہ / مصدر: اور نسائی (4386) نے اس کا کچھ حصہ دوسرے الفاظ کے ضمن میں جبیر بن نفیر کے طریق سے، انہوں نے سلمہ بن نفیل سے روایت کیا ہے۔