🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. التَّنَاكُحُ فِي الطُّرُقِ مِنْ عَلَامَاتِ السَّاعَةِ
راستوں میں اعلانیہ بدکاری کا ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8618
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج، عن ابن حُجَيرة، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"سيأتي على أمتي الزمانُ يَكثُر القراء ويقل الفقهاء، ويُقبَض العِلمُ، ويَكثُر الهَرْجُ" قالوا: وما الهرجُ يا رسول الله؟ قال:"القتل بينكم. ثم يأتي بعد ذلك زمانٌ يَقرأُ القرآنَ رجال لا يجاوز تَراقِيَهم، ثم يأتي بعد ذلك زمانٌ يجادل المنافق الكافر المشرك بالله المؤمنَ بمِثْل ما يقول" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8412 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں قراء (قرآن پڑھنے والے) کثرت سے ہوں گے جبکہ فقہاء (دین کی گہری سمجھ رکھنے والے) کم ہوں گے، علم اٹھا لیا جائے گا اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان قتل و غارت گری۔ پھر اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں ایسے لوگ قرآن پڑھیں گے جن کے حلق سے نیچے قرآن نہیں اترے گا، پھر اس کے بعد ایک ایسا دور آئے گا جس میں منافق، کافر اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا شخص مؤمن سے انہی جیسی باتوں کے ذریعے جھگڑا کرے گا جو (بظاہر) مؤمن کہتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8618]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لتفرد درّاج أبي السَّمح فيه بزيادات لم تأتِ فيما صحَّ عن أبي هريرة، ودراج إنما يعتبر به في المتابعات والشواهد، فإذا انفرد ضُعِّف» [ترقيم الرساله 8618] [ترقيم الشركة 8514] [ترقيم العلميه 8412]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لتفرد درّاج أبي السَّمح فيه بزيادات لم تأتِ فيما صحَّ عن أبي هريرة

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8618 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لتفرد درّاج أبي السَّمح فيه بزيادات لم تأتِ فيما صحَّ عن أبي هريرة، ودراج إنما يعتبر به في المتابعات والشواهد، فإذا انفرد ضُعِّف. ابن حجيرة: هو عبد الرحمن بن حجيرة الخولاني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ "درّاج ابوالسمح" اس میں ایسی زیادتیوں کے ساتھ منفرد ہیں جو حضرت ابوہریرہ سے ثابت شدہ دیگر روایات میں نہیں آئیں، اور درّاج کا اعتبار صرف متابعات و شواہد میں ہوتا ہے، جب وہ اکیلے ہوں تو ضعیف قرار پاتے ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن حجیرہ سے مراد "عبدالرحمن بن حجیرہ خولانی" ہیں۔
وأخرجه ابن عبد البر في "جامع بيان العلم وفضله" (1043) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عبدالبر نے "جامع بیان العلم وفضلہ" (1043) میں حرملہ بن یحییٰ کے واسطے سے عبداللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (3277) من طريق عبد الله بن لهيعة، عن دراج، به.
📖 حوالہ / مصدر: نیز طبرانی نے "الاوسط" (3277) میں عبداللہ بن لہیعہ کے واسطے سے درّاج سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والحديث إلى قوله: "القتل بينكم" قد روي نحوه من غير وجه صحيح عن أبي هريرة عند أحمد 12 / (7186) و (7488) و (7549) و 15 / (9527) و 16 / (10792) و (10863)، والبخاري (85) و (1036)، ومسلم (2672) (11) و (2888) (18)، وأبي داود (4255)، وابن ماجه (4052)، وابن حبان (6711) و (6718).
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کا یہ حصہ کہ "تمہارے درمیان قتل و غارت ہوگی"، اس مفہوم کی روایات حضرت ابوہریرہ سے دیگر صحیح اسانید کے ساتھ مروی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: دیکھیے مسند احمد (12/ 7186، 7488، 7549 اور 15/ 9527 اور 16/ 10792، 10863)، بخاری (85، 1036)، مسلم (2672/ 11 اور 2888/ 18)، ابوداؤد (4255)، ابن ماجہ (4052) اور ابن حبان (6711، 6718)۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8618 in Urdu