🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. التَّنَاكُحُ فِي الطُّرُقِ مِنْ عَلَامَاتِ السَّاعَةِ
راستوں میں اعلانیہ بدکاری کا ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8612
أخبرني إسماعيل بن الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا عبد العزيز بن محمد وأبو عَلْقمة الفَرْوي قالا: حدثنا صفوان بن سُلَيم، عن عبد الله بن سلمان الأغرِّ، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله يَبْعَثُ ريحًا من اليمن أليَن من الحرير، فلا تَدَعُ أحدًا في قلبه مثقال حبة من إيمانِ إِلَّا قَبَضَته" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه! وله شاهدٌ موقوف على عبد الله بن عَمْرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8406 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ یمن کی جانب سے ایک ہوا بھیجے گا جو کہ ریشم سے زیادہ نرم ہو گی، جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا، وہ اس کی روح کو قبض کر لے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی شاہد حدیث درج ذیل ہے، یہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8612]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8613
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا عِمران القَطَّان، عن قتادة، عن عبد الرحمن بن آدم، عن عبد الله بن عمرو (2) قال: لا تقوم الساعة حتى يبعث الله ريحًا لا تدعُ أحدًا في قلبه مثقالُ ذَرَّةٍ من تُقًى أو نُهًى إلَّا قَبَضَتْه، ويلحقُ كلُّ قوم بما كان يعبد آباؤُهم في الجاهلية، ويبقى عَجَاجٌ من الناس، لا يأمرون بمعروفٍ ولا يَنهَوْنَ عَن مُنكَر، يتناكحون في الطُّرُق كما تتناكحُ البهائم، فإذا كان ذلك اشتدَّ غضب الله على أهل الأرض فأقامَ الساعة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8407 - موقوف
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا، جو ایسے کسی آدمی کو زندہ نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا۔ اور ہر قبیلہ اس عقیدے کی طرف لوٹ جائے گا، جو ان کے آباؤاجداد زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے، ٹیڑھے قسم کے لوگ باقی بچ جائیں گے، نہ یہ نیکی کا حکم دیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، جانوروں کی طرح گلیوں بازاروں میں زنا کریں گے، جب یہ حالات پیدا ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کا غضب زمین والوں پر بہت شدید ہو جائے گا، تب قیامت قائم ہو جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8613]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8614
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد البيهقي، حدثنا نُعيم بن حمّاد، أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عيسى بن عاصم، عن زر بن حبيش، عن أنس بن مالك قال: بينما النبي ﷺ يصلِّي ذاتَ ليلةٍ صلاةً مدَّ يدَه ثم أخرها، فقلنا: يا رسول الله، رأيناك صنعت في هذه الصلاة شيئًا لم تكن تصنعه فيما قبله! قال:"أجَلْ، إنه عُرضَت على الجنة، فرأيت فيها داليةً قطوفُها دانيةٌ، فأردت أن أتناول منها شيئًا، فأوحيَ إليَّ: أن استأخِرْ، فاستأخرتُ، وعُرِضَت علي النار فيما بيني وبينكم حتى رأيت ظِلِّي وظلكم فيها، فأومأتُ إليكم: أن استأخروا، فأُوحي إليّ: أنْ أَقِرَّهم، فإنك أسلمت وأسلموا، وهاجرت وهاجروا، وجاهدت وجاهدوا، فلم أرَ لك فَضْلًا عليهم إلَّا بالنبوة، فأوَّلتُ ذلك ما تلقى أمتي بعدي من الفتن" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8408 - صحيح
سیدنا انسب مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز پڑھائی، پھر اپنا ہاتھ پھیلایا، پھر ہٹا لیا، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آج ہم نے آپ کو نماز میں ایک عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس سے پہلے آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا، اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میرے سامنے جنت پیش کی گئی، میں نے اس میں گچھے لٹکتے ہوئے پائے، میں نے اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کیا، لیکن میری جانب وحی کی گئی کہ اس کو رہنے دیں، تب میں نے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا، اور مجھ پر دوزخ بھی پیش کی گئی، وہ اتنی قریب تھی کہ میں نے اپنا اور تمہارا سایہ اس میں دیکھا، میں نے تمہیں پیچھے رہنے کا اشارہ کیا، میری طرف وحی کی گئی کہ میں ان کو ان کے مقام پر روک کر رکھوں کیونکہ آپ اسلام لائے تو وہ بھی اسلام لائے، آپ نے ہجرت کی، انہوں نے بھی ہجرت کی، آپ نے جہاد کیا، انہوں نے بھی جہاد کیا، ہم آپ کی ان پر یہ فضیلت دیکھتے ہیں کہ آپ کو نبوت ملی ہے۔ میں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ میری امت میرے بعد فتنوں میں مبتلا ہو جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8614]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8615
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ يزيد بن أبي حَبِيب حدثه، عبد الرحمن بن شُمَاسةَ حدَّثه: أنه كان عند مسلمة بن مخلد وعنده عبد الله بن عمرو بن العاص، فقال عبد الله: لا تقوم الساعة إلا على شرار الخلق، هم شرٌّ من أهل الجاهلية، لا يَدْعُون الله بشيءٍ إِلَّا ردَّه عليهم. فبينما هم على ذلك أقبل عُقْبةُ بن عامر، فقال مَسلَمة: يا عقبةُ، اسمع ما يقول عبد الله، فقال عقبة: هو أعلم، أما أنا فسمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تزالُ عِصابةٌ من أمتي يقاتلون على أمر الله، قاهرين على العدو، لا يَضُرُّهم مَن خالَفَهم، حتى تأتيهم الساعة وهم على ذلك". فقال عبد الله: أجل، ثم يبعَثُ الله ريحًا ريحُها المسك، ومسُّها مسُّ الحرير، فلا تترك نفسًا في قلبه مثقال حبّةٍ من الإيمان إلَّا قَبَضَته، ثم يبقى شرار الناس عليهم تقوم الساعة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8409 - صحيح
عبدالرحمن بن شماسہ فرماتے ہیں: وہ سیدنا مسلمہ بن مخلد کے پاس موجود تھے، ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ موجود تھے، سیدنا عبداللہ نے کہا: قیامت ان لوگوں پر قائم ہو گی جو مخلوق میں سب سے برے ہوں گے، وہ لوگ زمانہ جاہلیت کے لوگوں سے بھی زیادہ برے ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگیں گے، اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو رد کر دے گا، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، سیدنا مسلمہ نے کہا: اے عقبہ! دیکھو، عبداللہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدنا عقبہ نے کہا: وہ زیادہ علم رکھتا ہے، (اس لئے اس نے جو بھی کہا ٹھیک ہی کہا ہو گا) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی رہے گی، جو اللہ تعالیٰ کے نام پر جہاد کرتے رہیں گے، دشمنوں پر غالب رہیں گے، ان کے مخالفین ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، حتی کہ قیامت یہ آ جائے گی، اور وہ اپنے نظریے پر قائم رہیں گے۔ سیدنا عبداللہ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ ہوا بھیجے گا جو مشک کی طرح خوشبودار ہو گی، جو ریشم کی طرح نرم ہو گی، وہ ایسے تمام لوگوں کی روح قبض کر لے گی جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا۔ پھر روئے زمین پر برے لوگ رہ جائیں گے، ان پر قیامت قائم ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8615]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8616
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام: وحدثنى أبي، عن قتادة، عن أبي مِجلَز، عن قيس بن عُبَادٍ، عن عبد الله بن عمرو قال: من آخر أمر الكعبة أَنَّ الحَبَشَ يَغزُون البيت، فيتوجَّه المسلمون نحوهم، فيبعث الله عليهم ريحًا إثْرَها شرقيةً، فلا يدعُ الله عبدًا في قلبه مثقال ذرّةٍ من تُقًى إِلَّا قَبَضَته، حتى إذا فُرِّغوا من خيارِهم بقيَ عَجَاجٌ من الناس، لا يأمرون بمعروف ولا ينهون عن منكر، وعَمَدَ كلُّ حيٍّ إلى ما كان يعبدُ آباؤُهم من الأوثان فيَعبُده، حتى يتسافَدوا في الطرق كما تتسافدُ البهائم، فتقوم عليهم الساعةُ، فمن أنبأكَ عن شيء بعد هذا فلا علم له (1) . صحيح الإسناد على شرطهما موقوفٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8410 - على شرط البخاري ومسلم موقوف
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کعبہ کا آخری واقعہ یہ ہو گا کہ ایک لشکر بیت اللہ پر چڑھائی کرے گا، مسلمان ان کے مقابلے کے لئے نکلیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے پیچھے مشرق سے چلنے والی ہوا بھیجے گا، وہ ان تمام لوگوں کی روح قبض کر لے گی جن کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا، حتی کہ دنیا نیک لوگوں سے خالی ہو جائے گی، کمینے لوگ رہ جائیں گے، وہ نہ نیکی کا حکم دیں گے اور نہ برائی سے منع کریں گے، اور تمام لوگ اپنے آباؤاجداد کی طرح بتوں کے پجاری بن جائیں گے، جانوروں کی طرح گلیوں، بازاروں میں بدکاریاں کریں گے، ان لوگوں پر قیامت قائم ہو جائے گی۔ اتنی تفصیلی گفتگو کے بعد اگر تمہیں کوئی اس سے مختلف بات سنائے تو وہ علم سے خالی ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8616]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8617
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا بشير بن المهاجر، عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ لله ريحًا يبعثها على رأس مئة سنة (2) تَقبِضُ روح كلِّ مؤمن" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8411 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سو سال کے بعد ایک ہوا بھیجے گا جو ہر مومن کی روح کو قبض کر لے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8617]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں