المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
47. ذِكْرُ خُرُوجِ مَعَادِنَ مُخْتَلِفَةٍ
مختلف قسم کی معدنیات کے نکلنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8621
أخبرنا عَبْدانُ (2) بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن قارِظ بن شَيْبة، عن أبي غَطَفان قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو يقول: تَخرُج معادنُ مختلفةٌ، مَعدِنٌ منها قريبٌ من الحجاز يأتيه شِرارُ الناس، يقال له: فِرعون، فبينما هم يعملون فيه إذْ حَسَرَ عن الذَّهب، فأعجبهم مُعتملُه، إذ خُسِفَ به وبهم (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8415 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8415 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مختلف قسم کی کانیں ظاہر ہوں گی، ان میں سے ایک کان حجاز کے قریب ہوگی جس کی طرف بدترین لوگ آئیں گے، اسے ”فرعون“ کہا جائے گا، پس وہ لوگ اس میں کام کر رہے ہوں گے کہ اچانک وہاں سے سونا ظاہر ہوگا، انہیں اس جگہ کام کرنا بہت پسند آئے گا کہ اچانک اسے اور ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8621]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8621]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل قارظ بن شيبة» [ترقيم الرساله 8621] [ترقيم الشركة 8517] [ترقيم العلميه 8415]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8621 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية هنا إلى: غيلان، وقد جاء على الصواب عند المصنف في بضعة عشر موضعًا من هذا الكتاب.
📝 نوٹ / توضیح: یہاں قلمی نسخوں میں نام تحریف ہو کر "غیلان" لکھا گیا، حالانکہ مصنف (امام حاکم) کے ہاں اسی کتاب میں دس سے زائد مقامات پر یہ نام درست حالت میں آیا ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل قارظ بن شيبة. ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے جس کی وجہ راوی "قارظ بن شیبہ" ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (سند میں مذکور) ابن ابی ذئب سے مراد "محمد بن عبدالرحمن" ہیں۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (1694) عن عبد الله بن وهب، عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے کتاب "الفتن" (1694) میں عبداللہ بن وہب سے، انہوں نے ابن ابی ذئب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8621 in Urdu