🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. ذكر خروج معادن مختلفة
مختلف قسم کی معدنیات کے نکلنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8620
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي السِّيرافي، حدثنا عبد الله بن رجاء الغُدَاني (2) ، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن المهلَّب بن أبي صُفرة، عن عبد الله بن عمرو قال: تُبعَثُ نارٌ تسوقُ الناسَ من مشارق الأرض إلى مغاربها كما يُساقُ الجمل الكَسير، لها ما تَخلَّفَ منهم، إذا قالُوا قالت، وإذا باتُوا باتَتْ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8414 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آگ بھیجی جائے گی، یہ لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانکے گی، جیسا کہ سست و کاہل اونٹ کو ہانکا جاتا ہے، کوئی بندہ پیچھے نہیں رہے گا، جب لوگ قیلولہ کریں گے وہ آگ بھی اسی وقت قیلولہ کرے گی اور جب لوگ رات گزاریں گے، وہ آگ بھی رات گزارے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8620]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8620 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّفت في النسخ الخطية بالعين المهملة والراء.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف کا شکار ہو کر "عین مہملہ" (بغیر نقطے والی عین) اور "را" کے ساتھ لکھا گیا ہے۔
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإنَّ قتادة لم يسمع المهلب، بينهما فيه عمر ابن سيف كما وقع في "مشيخة إبراهيم بن طهمان" (61)، وسيأتي بيانه عند الحديث رقم (8861)، وعمر بن سيف هذا تفرَّد قتادة بالرواية عنه، فهو مجهول، وذكره ابن حبان في "ثقاته"!
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، لیکن زیر نظر سند "انقطاع" کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: قتادہ کا سماع (تابعی) مہلب سے ثابت نہیں، ان دونوں کے درمیان اس سند میں "عمر بن سیف" کا واسطہ ہے جیسا کہ "مشیخۃ ابراہیم بن طہمان" (61) میں موجود ہے۔ اس کی تفصیلی وضاحت آگے حدیث نمبر (8861) پر آئے گی۔ یہ عمر بن سیف وہ راوی ہیں جن سے روایت کرنے میں قتادہ منفرد ہیں، لہٰذا یہ "مجہول" ہیں، (تعجب ہے کہ) ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے!
ورواه بنحوه معمر عن قتادة - فيما سيأتي برقم (8707) عن شهر بن حوشب عن عبد الله بن عمرو، فرفعه. وانظر تتمة تخريجه والكلام عليه هناك.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے معمر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے جو آگے نمبر (8707) پر شہر بن حوشب عن عبداللہ بن عمرو کے طریق سے آئے گی، اور انہوں نے اسے "مرفوع" بیان کیا ہے۔ اس کی تخریج کا بقیہ حصہ اور اس پر فنی کلام وہاں دیکھیں۔
ويشهد له في المرفوع حديث أبي هريرة عند البخاري (6522) ومسلم (2861)، وفيه: "ويحشر بقيتَهم (أي: الناسَ) النارُ، تَقِيل معهم حيث قالوا، وتَبيت معهم حيث باتوا، وتُصبح معهم حيث أصبحوا، وتُمسي معهم حيث أمسوا".
🧩 متابعات و شواہد: مرفوع روایات میں اس کی تائید (شاہد) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث کرتی ہے جو بخاری (6522) اور مسلم (2861) میں ہے، اس میں الفاظ ہیں: "اور ان کے باقی ماندہ لوگوں کو آگ جمع کرے گی، وہ ان کے ساتھ وہاں قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات وہیں گزارے گی جہاں وہ گزاریں گے، صبح وہیں کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے اور شام وہیں کرے گی جہاں وہ شام کریں گے"۔
وحديث أبي سريحة حذيفة بن أَسيد عند أحمد (26/ (16143) وغيره، وفيه: "ونار تخرج من قعر عَدَن ترحّل الناس، تنزل معهم حيث نزلوا، وتقيل معهم حيث قالوا"، ومعناه في "صحيح مسلم" (2901).
🧩 متابعات و شواہد: نیز ابوسریحہ حذیفہ بن اسید کی حدیث جو مسند احمد (26/ 16143) وغیرہ میں ہے، اس میں ہے: "اور ایک آگ عدن کی گہرائی سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانکے گی (کوچ کرائے گی)، جہاں وہ پڑاؤ ڈالیں گے آگ بھی ان کے ساتھ اترے گی اور جہاں وہ قیلولہ کریں گے آگ بھی وہیں رکے گی"۔ اس کا مفہوم "صحیح مسلم" (2901) میں بھی موجود ہے۔