المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. ذو العرف يجمع من قبائل الشرك جمعا عظيما
ذو العرف مشرک قبائل کا ایک عظیم لشکر اکٹھا کرے گا
حدیث نمبر: 8628
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهري، عن أبي إدريس الخَولاني، قال: أدركتُ أبا الدرداء ووَعَيتُ عنه، وأدركتُ عُبادة بن الصامت ووَعَيتُ عنه، وفاتني معاذُ بن جبل، فأخبرني يزيدُ بن عَمِيرة: أنه كان يقول في كل مجلس يجلسُه: اللهُ حَكَمٌ قِسط تبارك اسمُه، هَلَكَ المُرتابون، إنَّ من ورائكم فتنًا يَكثُر فيها المال، ويُفتح فيها القرآنُ حتى يأخذه الرجلُ والمرأة، والحرُّ والعبد، والصغيرُ والكبير، فيوشكُ الرجل أن يقرأ القرآن [فيقول: قد قرأتُ القرآن، فما للناس لا يتَّبعوني وقد قرأتُ القرآن؟!] (1) ثم يقول: ما هم مُتَّبِعيَّ حتى أبتدع لهم غيره، فإياكم وما ابتدعتُم، فإنَّ ما ابتدعَ ضلالةٌ. اتقوا زَلَّةَ الحكيم، فإنَّ الشيطان يُلقي على فمِ الحَكيم الضلالةَ، ويُلقي للمنافق كلمةَ الحق، قال: قلنا: وما يدريك - يرحمُك الله - أنَّ المنافق يُلقَّى كلمة الحق، وأنَّ الشيطان يُلقي على فم الحكيم كلمة الضلالة؟ قال: اجتنبوا من كلام الحكيم كلَّ متشابهٍ، الذي إذا سمعته قلت: ما هذا؟ ولا يُثنيك [ذلك] عنه، فإنه لعله أن يراجع ويُلقَّى الحقَّ، فاسمعه فإنه على الحق نورٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8422 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8422 - على شرط البخاري ومسلم
ابوادریس خولانی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالدرداء کو پایا ہے، ان سے احادیث بھی لی ہیں، میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پایا ہے، اور ان سے احادیث لی ہیں، اور میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے نہیں مل سکا، مجھے یزید بن عمیرہ نے بتایا ہے کہ وہ جس مجلس میں بھی بیٹھتے وہاں یہ بات ضرور کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے والا ہے، اس کا نام برکت والا ہے، شک میں ڈالنے والے ہلاک ہو چکے ہیں، تمہارے پیچھے فتنے ہی فتنے ہوں گے، مال کی بہتات ہو گی، قرآن کھل جائے گا حتی کہ ہر مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹے اور بڑے کے پاس قرآن ہو گا، ایک آدمی قرآن پڑھے گا اور کہے گا: میں نے قرآن پڑھا ہے، لوگ میری اتباع کیوں نہیں کرتے؟ حالانکہ میں قرآن پڑھتا ہوں، پھر یہ لوگ میری اتباع اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک میں قرآن سے ہٹ کر ان کے لئے کوئی نئی چیز ایجاد نہ کر دوں۔ تم اس سے بھی بچنا اور اس کی بدعت سے بھی بچنا، اس لئے اس نے جو چیز اپنی طرف سے گھڑی ہو گی، وہ گمراہی ہو گی، اور حکیم کی غلطی سے بھی بچو، کیونکہ کئی مرتبہ شیطان حکیم کی زبان پر گمراہی ڈال دیتا ہے، اور منافق کی زبان پر کلمہ حق کا القاء کر دیتا ہے، ہم نے کہا: آپ کو کیسے پتا (اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے) کہ منافق کلمہ حق کی تلقین کرے گا اور شیطان حکیم کی زبان پر گمراہی جاری کر دیگا، آپ نے فرمایا: حکیم کی غیر واضح مبہم باتوں سے بچنا جن کو سن کر تم یہ پوچھنے پر مجبور ہو جاؤ کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اور وہ تمہیں اس بات پر خبردار بھی نہیں کرے گا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی بات سے رجوع کر لے اور حق بات کی طرف لوٹ آئے، تب اس کی بات سن لینا کیونکہ حق بات کا اپنا ایک نور ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8628]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8628 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين ليس في (ك) و (م) و (ب)، وأثبتناه من "تلخيص الذهبي" موافقةً لما في "جامع معمر" (20750).
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت نسخہ (ك)، (م) اور (ب) میں نہیں ہے، ہم نے اسے ذہبی کی "التلخیص" سے ثابت کیا ہے تاکہ معمر کی "الجامع" (20750) کے موافق ہو جائے۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أبو داود (4611) من طريق الليث بن سعد، عن عُقيل بن خالد، عن ابن شهاب الزهري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4611) نے لیث بن سعد کے طریق سے عقیل بن خالد سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي بأطول ممّا هنا برقم (8646) من طريق أبي قلابة عن يزيد بن عميرة.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت یہاں موجود متن سے زیادہ تفصیل کے ساتھ آگے نمبر (8646) پر ابوقلابہ عن یزید بن عمیرہ کے طریق سے آئے گی۔