🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. ذو العرف يجمع من قبائل الشرك جمعا عظيما
ذو العرف مشرک قبائل کا ایک عظیم لشکر اکٹھا کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8629
أخبرنا أبو منصور محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العتكي، حدثنا أبو سهل بشر بن سهل اللَّبّاد، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، حدثني أبو قَبيل، عن عبد الله بن عمرو بن العاص: أنَّ رجلًا من أعداء المسلمين بالأندلس يقال له: ذو العرف، يَجمَع من قبائل الشِّرك جمعًا عظيمًا يعرف مَن بالأندلس أن لا طاقة لهم، فيهرب أهلُ القوَّة من المسلمين في السفن، فيُجيزون إلى طنجة (2) ، ويبقى ضَعَفةُ الناس وجماعتُهم ليس لهم سفنٌ يُجيزون عليها، فيبعثُ الله ﷿ وَعِلًا ويُيبِّس (3) لهم في البحر، فيُجيز الوَعِلُ لا يغطِّي الماء أظلافه، فيراه الناس فيقولون: الوعل الوعلَ اتَّبعوه، فيُجِيزُ الناسُ على إثره كلُّهم، ثم يصير البحرُ على ما كان عليه، ويُجيز العدوُّ في المراكب، فإذا حسَّهم أهل إفريقيَّة هربوا كلُّهم حتى يدخلوا الفُسطاط، ويُقبلُ ذلك العدوُّ حتى ينزلوا فيما بين ترنوط إلى الأهرام مسيرة خمسة بُرُد، فيملؤون ما هنالك شرًّا، فتخرج إليهم رايةُ المسلمين على الجسر، فينصرهم الله عليهم، فيهزمونهم ويقتلونهم إلى لُوبِيَّةَ مسيرةَ عشر ليال، ويستوقدُ أهل الفُسطاط لعِجْلهم وأداتهم سبع سنين، ويَنفلتُ ذو العرف من القتل ومعه كتابٌ لا ينظرُ فيه إلَّا وهو منهزمٌ، فيَجِدُ فيه ذِكرَ الإسلام، وأنه يُؤمَر فيه بالدخول في السِّلْم، فيسأل الأمان على نفسه وعلى من أجابه إلى الإسلام من أصحابه الذين أقبلوا معه، فيُسلمُ فيصير من المسلمين، ثم يأتي العام الثاني رجلٌ من الحبشة يقال له: اسبس، وقد جمع جمعًا عظيمًا، فيهرب المسلمون منهم من أُسوان حتى لا يبقى بها ولا فيما دونَها أحدٌ من المسلمين إلا دخل الفُسطاط، فينزل اسبس بجيشه مَنْفَ، وهو على رأس بَريدٍ الفُسطاط، فتخرج إليهم رايةُ المسلمين على الجسر، فينصرُهم الله عليهم، فيقتلونهم ويأسرونهم، حتى يُباع الأسوَدُ بعباءةٍ (1) .
هذا حديث صحيح موقوف الإسناد على شرط الشيخين (2) ، وهو أصل في معرفة وقوع الفتن بمصر، ولم يُخرجاه. ومَنْفُ: هو الذي يقول منصورٌ الفقيه ﵀ فيه: سألتُ أمس قُصورًا … بعَينِ شمسٍ ومَنْفِ عن أهلها أين حَلُّوا … فلم تُجِبْني بحَرفِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8423 - ليس على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ اندلس میں مسلمانوں کا ذوالعرف نامی ایک دشمن ہو گا، وہ مشرکوں کے قبیلوں کو جمع کر کے ایک بہت بڑا لشکر جرار تیار کر لے گا، اندلس کے لوگ سمجھیں گے کہ ان میں کوئی طاقت نہیں ہے، مسلمان طاقتور لوگ کشتیوں میں بھاگ جائیں گے اور (بحر) طنجہ (عرب کی آبادی جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے مشرق کی جانب کا علاقہ ہے) کی طرف نکل جائیں گے۔ اور کمزور و ناتواں لوگ اور ان کی جماعت باقی رہ جائے گی، ان کے پاس کشتیاں بھی نہیں ہوں گی جن پر سوار ہو کر وہ چلے جائیں، اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایک پہاڑی بکرا بھیجے گا، وہ دریا پر اس طرح چلے گا کہ اس کے کھر بھی پانی میں نہیں ڈوبیں گے، لوگ کہیں گے، بکرا ہے بکرا، اس کے پیچھے چلو، چنانچہ لوگ اس کے پیچھے چل پڑیں گے، پھر سمندر اپنی سابقہ کیفیت پر آ جائے گا، دشمن اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر ان کے تعاقب میں نکلیں گے، جب اہل افریقہ محسوس کریں گے تو یہ سب لوگ بھی افریقہ سے بھاگ نکلیں گے اور ان کے ساتھ اندلس میں بچے ہوئے مسلمان بھی ہوں گے۔ حتی کہ یہ لوگ مصر میں داخل ہوں گے، اور یہ دشمن کے مقابلے میں ہوں گے۔ حتی کہ یہ لوگ مربوط سے اہرام کی جانب پانچ برید کی مسافت پر پڑاؤ ڈالیں گے، وہاں پر بہت شر پھیلائیں گے، وہاں پر ان کی جانب ایک مسلمان لشکر پل پر حملہ آور ہو گا، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے خلاف فتح دیگا، دشمنوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ لوگ ان کو مارتے مارتے، ولبہ کی جانب دس راتوں کی مسافت تک دھکیل کر لے جائیں گے، خیموں والے لوگ ان کے بچھڑوں اور ان کی ہانڈیوں کو سات سال تک استعمال کریں گے۔ اور ذوالعرف قتل سے بھاگ جائے گا۔ اور جان بچانے میں کامیاب ہو جائے گا، اس کے ساتھ کتاب ہو گی۔ لیکن وہ اس کو دیکھ نہیں سکے گا۔ اور وہ شکست خوردہ ہو گا۔ وہ اس کتاب میں اسلام کا ذکر پائے گا، اور اس میں اس کے لئے مشورہ ہو گا کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائے، وہ اپنی جان پر امان طلب کرے گا، اور اپنے ساتھ آنے والے لوگوں کے لئے بھی امان طلب کرے گا، پھر وہ مسلمان ہو جائے گا پھر اگلے سال حبشہ کا ایک اسیس نام آدمی آئے گا، وہ بہت بڑا لشکر جمع کرے گا، مسلمان اس کی کثرت دیکھ کر غمزدہ ہو کر بھاگ جائیں گے، حتی کہ وہاں پر ایک بھی مسلمان باقی نہیں بچے گا، سب خیموں میں چھپ چکے ہوں گے، اسیس اپنے لشکر کے ساتھ منف میں اترے گا، وہ ابھی خیموں سے ایک برید کی مسافت دور ہو گا، ان کی جانب بھی پل پر مسلمانوں کا ایک لشکر نکلے گا، اللہ تعالیٰ ان کو فتح و نصرت سے نوازے گا، یہ لوگ ان کو قتل کریں گے، ان کو قیدی بنائیں گے حتی کہ حبشی کو اس کے جبے سمیت بیچا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح موقوف الاسناد ہے، اور یہ فتنوں کے وقوع پذیر ہونے کے سلسلے میں اصل ہے۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث میں جو منف کا لفظ آیا اس کے بارے میں منصور الفقیہ فرماتے ہیں: گزشتہ کل میں نے محلات سے پوچھا، سورج کی دھوپ میں اور منف میں رہنے والوں کے بارے میں کہ وہ کہاں کوچ کر گئے ہیں، لیکن اس نے مجھے ایک حرف بھی جواب نہیں دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8629]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8629 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: لجة أو بجة، والتصويب من "تلخيص الذهبي" ومصادر التخريج. وطنجة: مدينة على ساحل المغرب على مضيق جبل طارق مقابل الجزيرة الخضراء من الأندلس.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ تحریف ہو کر "لجۃ" یا "بجۃ" بن گیا، اس کی درستی ذہبی کی "التلخیص" اور تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔ (درست لفظ طنجہ ہے)۔ طنجہ: مراکش (المغرب) کے ساحل پر آبنائے جبرالٹر پر واقع ایک شہر ہے جو اندلس کے "الجزیرۃ الخضراء" کے بالکل سامنے ہے۔
(3) تحرَّفت في النسخ الخطية إلى: وينشر والتصويب من "الفتن" لأبي عمرو الداني (484)، وتيبيس الشيء: تجفيفه، ومنه قوله تعالى في قصة موسى ﵇: ﴿فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا﴾ [طه: 77]
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "وینشر" بن گیا، اس کی تصحیح ابوعمرو دانی کی کتاب "الفتن" (484) سے کی گئی ہے (درست لفظ: تیبیس)۔ "تیبیس الشیء" کا مطلب ہے کسی چیز کو خشک کرنا، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں اللہ کا فرمان ہے: "پس تو ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بنا" [طہ: 77]۔
(1) متنه منكر غريب وذكر عبد الله بن عمرو فيه مستنكر، فإنَّ الأندلس إنما عُرفت ودخلها المسلمون بعد وفاته ﵁ بسنوات، إذ كان فتح تلك البلاد على يد طارق بن زياد ﵀ ابتداءً من سنة 92 هـ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس حدیث کا متن "منکر اور غریب" ہے، اور اس میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا ذکر ہونا عجیب (مستنکر) ہے، کیونکہ اندلس تو ان کی وفات کے کئی سالوں بعد مسلمانوں کے علم میں آیا اور فتح ہوا، ان علاقوں کی فتح طارق بن زیاد رحمہ اللہ کے ہاتھوں 92 ہجری سے شروع ہوئی (جبکہ عبداللہ بن عمرو اس سے بہت پہلے وفات پا چکے تھے)۔
وهذا الخبر قد تفرد به أبو قبيل - وهو حيي بن هانئ المعافري - وهو مختلف فيه، وهو إلى التوثيق أقرب إلّا أنَّ له مناكير؛ ذلك لأنه كان يكثر النقل عن الكتب القديمة كما قال الحافظ ابن حجر في ترجمة عبيد بن أبي قرة من "تعجيل المنفعة" 1/ 853.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس خبر کو بیان کرنے میں "ابوقبیل" (حیی بن ہانی معافری) منفرد ہیں، جو کہ مختلف فیہ راوی ہیں۔ وہ توثیق کے زیادہ قریب ہیں لیکن ان کی کچھ روایات منکر ہیں؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پرانی کتابوں (اسرائیلیات) سے کثرت سے نقل کرتے تھے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "تعجیل المنفعۃ" (1/ 853) میں عبید بن ابی قرہ کے ترجمے میں فرمایا ہے۔
وبشر بن سهل اللباد وإن كان مجهول الحال كما سلف في ترجمته عند الحديث (261)، وعبد الله بن صالح وإن كان سيئ الحفظ، إلا أنهما لم ينفردا به.
🔍 فنی نکتہ / علّت: بشر بن سہل لباد اگرچہ "مجہول الحال" ہیں (جیسا کہ حدیث 261 کے تحت گزرا) اور عبداللہ بن صالح اگرچہ "سیئ الحفظ" ہیں، لیکن اس روایت میں یہ دونوں منفرد نہیں ہیں (یعنی اصل علت اوپر والا راوی ابوقبیل ہے)۔
فقد روى نحوه رشدين بن سعد، عن عبد الله بن لهيعة، عن أبي قبيل، عن عبد الله بن عمرو.
🧾 تفصیلِ روایت: اسی طرح رشدین بن سعد نے عبداللہ بن لہیعہ سے، انہوں نے ابوقبیل سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کیا ہے۔
أخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (1331)، ومن طريقه أبو عمرو الداني في "السنن الواردة في الفتن" (484)، ورشدين ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (1331) میں اور ان کے طریق سے ابوعمرو دانی نے "السنن الواردۃ فی الفتن" (484) میں روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: (راوی) رشدین "ضعیف" ہیں۔
والفُسطاط وترنوط ولوبيّة وأُسوان ومنف كلها بلدان مصرية ذكرها ياقوت في "معجم البلدان".
📝 نوٹ / توضیح: (متن میں مذکور مقامات) فسطاط، ترنوط، لوبیہ، اسوان اور منف، یہ سب مصری شہر ہیں جن کا ذکر یاقوت حموی نے "معجم البلدان" میں کیا ہے۔
(2) تعقَّبه الذهبي في "تلخيصه" بقوله: ليس على شرطهما، فإنهما لم يخرجا لأبي قبيل، ولا روى مسلم لعبد الله بن صالح شيئًا لضعفه، والبخاري لم يكد يفصح به.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں (امام حاکم کا) تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: "یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے ابوقبیل سے روایت نہیں لی، اور امام مسلم نے عبداللہ بن صالح کے ضعف کی وجہ سے ان سے کچھ روایت نہیں کیا، جبکہ امام بخاری نے شاید ہی کہیں ان کا (صراحت سے) نام لیا ہو"۔