المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. ذُو الْعُرْفِ يَجْمَعُ مِنْ قَبَائِلِ الشِّرْكِ جَمْعًا عَظِيمًا
ذو العرف مشرک قبائل کا ایک عظیم لشکر اکٹھا کرے گا
حدیث نمبر: 8629
أخبرنا أبو منصور محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العتكي، حدثنا أبو سهل بشر بن سهل اللَّبّاد، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، حدثني أبو قَبيل، عن عبد الله بن عمرو بن العاص: أنَّ رجلًا من أعداء المسلمين بالأندلس يقال له: ذو العرف، يَجمَع من قبائل الشِّرك جمعًا عظيمًا يعرف مَن بالأندلس أن لا طاقة لهم، فيهرب أهلُ القوَّة من المسلمين في السفن، فيُجيزون إلى طنجة (2) ، ويبقى ضَعَفةُ الناس وجماعتُهم ليس لهم سفنٌ يُجيزون عليها، فيبعثُ الله ﷿ وَعِلًا ويُيبِّس (3) لهم في البحر، فيُجيز الوَعِلُ لا يغطِّي الماء أظلافه، فيراه الناس فيقولون: الوعل الوعلَ اتَّبعوه، فيُجِيزُ الناسُ على إثره كلُّهم، ثم يصير البحرُ على ما كان عليه، ويُجيز العدوُّ في المراكب، فإذا حسَّهم أهل إفريقيَّة هربوا كلُّهم حتى يدخلوا الفُسطاط، ويُقبلُ ذلك العدوُّ حتى ينزلوا فيما بين ترنوط إلى الأهرام مسيرة خمسة بُرُد، فيملؤون ما هنالك شرًّا، فتخرج إليهم رايةُ المسلمين على الجسر، فينصرهم الله عليهم، فيهزمونهم ويقتلونهم إلى لُوبِيَّةَ مسيرةَ عشر ليال، ويستوقدُ أهل الفُسطاط لعِجْلهم وأداتهم سبع سنين، ويَنفلتُ ذو العرف من القتل ومعه كتابٌ لا ينظرُ فيه إلَّا وهو منهزمٌ، فيَجِدُ فيه ذِكرَ الإسلام، وأنه يُؤمَر فيه بالدخول في السِّلْم، فيسأل الأمان على نفسه وعلى من أجابه إلى الإسلام من أصحابه الذين أقبلوا معه، فيُسلمُ فيصير من المسلمين، ثم يأتي العام الثاني رجلٌ من الحبشة يقال له: اسبس، وقد جمع جمعًا عظيمًا، فيهرب المسلمون منهم من أُسوان حتى لا يبقى بها ولا فيما دونَها أحدٌ من المسلمين إلا دخل الفُسطاط، فينزل اسبس بجيشه مَنْفَ، وهو على رأس بَريدٍ الفُسطاط، فتخرج إليهم رايةُ المسلمين على الجسر، فينصرُهم الله عليهم، فيقتلونهم ويأسرونهم، حتى يُباع الأسوَدُ بعباءةٍ (1) .
هذا حديث صحيح موقوف الإسناد على شرط الشيخين (2) ، وهو أصل في معرفة وقوع الفتن بمصر، ولم يُخرجاه. ومَنْفُ: هو الذي يقول منصورٌ الفقيه ﵀ فيه: سألتُ أمس قُصورًا … بعَينِ شمسٍ ومَنْفِ عن أهلها أين حَلُّوا … فلم تُجِبْني بحَرفِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8423 - ليس على شرطهما
هذا حديث صحيح موقوف الإسناد على شرط الشيخين (2) ، وهو أصل في معرفة وقوع الفتن بمصر، ولم يُخرجاه. ومَنْفُ: هو الذي يقول منصورٌ الفقيه ﵀ فيه: سألتُ أمس قُصورًا … بعَينِ شمسٍ ومَنْفِ عن أهلها أين حَلُّوا … فلم تُجِبْني بحَرفِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8423 - ليس على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اندلس میں مسلمانوں کے دشمنوں میں سے ایک شخص نمودار ہوگا جسے ”ذوالعرف“ کہا جائے گا، وہ مشرک قبائل کا ایک ایسا عظیم لشکر جمع کرے گا جس کے متعلق اہلِ اندلس کو یہ یقین ہو جائے گا کہ ان میں اس کے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں ہے، چنانچہ مسلمانوں میں سے صاحبِ استطاعت لوگ کشتیوں میں سوار ہو کر وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے اور طنجہ کی طرف عبور کر جائیں گے، جبکہ کمزور لوگ اور عوامی طبقہ پیچھے رہ جائے گا جن کے پاس عبور کے لیے کشتیاں میسر نہیں ہوں گی، تب اللہ عزوجل ایک پہاڑی بکرا «وَعِلًا» بھیجے گا اور ان کے لیے سمندر کو خشک (پایاب) کر دے گا، وہ پہاڑی بکرا اس طرح سمندر پار کرے گا کہ پانی اس کے کھروں کو بھی نہیں ڈھانپے گا، لوگ اسے دیکھ کر پکاریں گے: وہ دیکھو پہاڑی بکرا! اس کے پیچھے چلو، چنانچہ تمام لوگ اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سمندر پار کر جائیں گے، پھر سمندر اپنی اصل حالت پر واپس آ جائے گا اور دشمن بحری جہازوں میں سوار ہو کر عبور کرے گا، جب اہلِ افریقہ کو ان دشمنوں کی آہٹ محسوس ہوگی تو وہ سب بھاگ کر فسطاط (مصر) میں پناہ لیں گے، اور وہ دشمن آگے بڑھے گا یہاں تک کہ ترنوط سے لے کر اہرامِ مصر تک کے علاقے میں ڈیرے ڈال دے گا جو کہ پانچ ڈاک چوکیوں (مراحل) کی مسافت ہے، وہ وہاں بہت شر انگیزی کریں گے، پھر پل پر ان کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کا لشکر پرچم بلند کر کے نکلے گا اور اللہ ان کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائے گا، مسلمان انہیں شکستِ فاش دیں گے اور لوبیہ تک دس راتوں کی مسافت تک انہیں قتل کرتے چلے جائیں گے، اہلِ فسطاط ان کے چھکڑوں اور جنگی ساز و سامان کو سات سال تک بطور ایندھن استعمال کریں گے، ذوالعرف قتل ہونے سے بچ نکلے گا اور اس کے پاس ایک کتاب ہوگی جسے وہ صرف اسی وقت دیکھے گا جب اسے شکست ہوگی، اس میں وہ اسلام کا ذکر پائے گا اور یہ کہ اس میں اسے صلح و سلامتی میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ وہ اپنے لیے اور اپنے ان ساتھیوں کے لیے جو اس کے ہمراہ آئے تھے اور اسلام لانے پر تیار تھے امان طلب کرے گا، پھر وہ اسلام قبول کر کے مسلمانوں میں شامل ہو جائے گا، پھر اگلے سال حبشہ کا ایک آدمی آئے گا جسے ”اسبس“ کہا جائے گا جس نے ایک لشکرِ جرار جمع کیا ہوگا، مسلمان اس کے ڈر سے اسوان سے بھاگیں گے یہاں تک کہ اسوان یا اس کے قریبی علاقوں میں کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا اور سب فسطاط میں پناہ گزین ہو جائیں گے، اسبس اپنے لشکر کے ساتھ ”منف“ (ممفس) میں آ اترے گا جو فسطاط سے ایک ڈاک چوکی (برید) کے فاصلے پر ہے، پھر پل پر ان کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کا علم بلند ہوگا اور اللہ ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرمائے گا، مسلمان انہیں قتل کریں گے اور قیدی بنائیں گے یہاں تک کہ ایک حبشی قیدی ایک معمولی چادر کے عوض فروخت کیا جائے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر موقوفاً صحیح ہے، اور یہ مصر میں پیش آنے والے فتنوں کی معرفت کے لیے ایک اصل کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور ”منف“ وہی جگہ ہے جس کے بارے میں منصور فقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے گزشتہ کل عینِ شمس اور منف کے محلات سے ان کے رہنے والوں کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں کوچ کر گئے؟ تو انہوں نے مجھے ایک حرف سے بھی جواب نہ دیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8629]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر موقوفاً صحیح ہے، اور یہ مصر میں پیش آنے والے فتنوں کی معرفت کے لیے ایک اصل کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور ”منف“ وہی جگہ ہے جس کے بارے میں منصور فقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے گزشتہ کل عینِ شمس اور منف کے محلات سے ان کے رہنے والوں کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں کوچ کر گئے؟ تو انہوں نے مجھے ایک حرف سے بھی جواب نہ دیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8629]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8629] [ترقيم الشركة 8525] [ترقيم العلميه 8423]
حدیث نمبر: 8630
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن أبي حصين، عن عبد الرحمن بن بِشْر (1) الأنصاري قال: أتى رجلٌ بادِي (2) ابن مسعود، فأكبَّ عليه، فقال: يا أبا عبد الرحمن، متي أَضِلُّ وأنا أعلم؟ قال: إذا كان عليك أمراء إذا أطعتهم أدخلوك النار، وإذا عصيتهم قتلوك (3) . وهذا موقوفٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم ﵀: هذه أحاديث ذكرها عبد الله بن وَهْب في الملاحم، وعَلَوتُ فيها فأخرجتها، وإن كانت غير مسانيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8424 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8424 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن بشر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور ان کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا: ”اے ابو عبدالرحمن! میں علم رکھنے کے باوجود کب گمراہ ہو جاؤں گا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جب تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے کہ اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں جہنم میں داخل کر دیں گے، اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے۔“
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8630]
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8630]
تخریج الحدیث: «خبر حسن، ومحمد بن إبراهيم الأصبهاني» [ترقيم الرساله 8630] [ترقيم الشركة 8526] [ترقيم العلميه 8424]
الحكم على الحديث: خبر حسن
حدیث نمبر: 8631
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير، عن أبيه، عن أبي ثَعلبة الخُشَني، قال: إذا رأيت الشام مائدة رجلٍ (4) واحد وأهل بيته، فعند ذلك فتحُ القُسطَنطينيّة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8425 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8425 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب تم شام کو ایک ہی شخص اور اس کے گھر والوں کا دسترخوان دیکھو (یعنی شام کے وسائل پر ایک ہی خاندان کا تسلط ہو جائے)، تو اس وقت قسطنطنیہ کی فتح ہو گی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8631]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات» [ترقيم الرساله 8631] [ترقيم الشركة 8527] [ترقيم العلميه 8425]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات