🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. ذو العرف يجمع من قبائل الشرك جمعا عظيما
ذو العرف مشرک قبائل کا ایک عظیم لشکر اکٹھا کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8630
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن أبي حصين، عن عبد الرحمن بن بِشْر (1) الأنصاري قال: أتى رجلٌ بادِي (2) ابن مسعود، فأكبَّ عليه، فقال: يا أبا عبد الرحمن، متي أَضِلُّ وأنا أعلم؟ قال: إذا كان عليك أمراء إذا أطعتهم أدخلوك النار، وإذا عصيتهم قتلوك (3) . وهذا موقوفٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم ﵀: هذه أحاديث ذكرها عبد الله بن وَهْب في الملاحم، وعَلَوتُ فيها فأخرجتها، وإن كانت غير مسانيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8424 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن بشیر الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی آیا اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو آواز دے کر ان کے اوپر جھک گیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! میں جان بوجھ کر کب گمراہ ہوں گا؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تیرے اوپر ایسے حکمران آ جائیں گے کہ اگر تو ان کی اطاعت کرے تو دوزخ میں جائے، اور اگر تو ان کی نافرمانی کرے تو وہ تجھے قتل کر دیں۔ ٭٭ یہ حدیث موقوف ہے صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام حاکم کہتے ہیں: ان احادیث کو عبداللہ بن وہب نے ملاحم میں ذکر کیا ہے، ان احادیث میں میری سند عالی ہے، اس لئے میں نے ان کو یہیں نقل کر دیا، اگرچہ یہ مسند نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8630]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8630 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: بشير، بزيادة ياء فيه، وعبد الرحمن بن بشر هذا: هو عبد الرحمن بن بشر بن مسعود الأنصاري، أبو بشر المدني.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "بشیر" (یاء کے اضافے کے ساتھ) لکھا گیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں عبدالرحمن بن بشر سے مراد "عبدالرحمن بن بشر بن مسعود انصاری، ابوبشر مدنی" ہیں۔
(2) أي: من أهل البادية.
📝 نوٹ / توضیح: (بدو کا مطلب ہے) یعنی بادیہ نشین (دیہاتی علاقے کے رہنے والے)۔
(3) خبر حسن، ومحمد بن إبراهيم الأصبهاني - وهو ابن أورمة - وإن كان مجهولًا كما سبق مرارًا، إلا أنه لم ينفرد به.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "حسن" ہے۔ راوی محمد بن ابراہیم اصبہانی (جو کہ ابن اورمہ ہیں) اگرچہ مجہول ہیں جیسا کہ بارہا گزر چکا، لیکن وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہیں۔
فقد رواه وكيع عند ابن أبي شيبة في "المصنف" 15/ 49 عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: کیونکہ اسے وکیع نے ابن ابی شیبہ کی "المصنف" (15/ 49) میں سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے (جو اس کی تائید ہے)۔
وهو إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن بشر، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند عبدالرحمن بن بشر کی وجہ سے "حسن" ہے، کیونکہ ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وأبو حصين: هو عثمان بن عاصم الأسدي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوحصین سے مراد "عثمان بن عاصم اسدی" ہیں۔