المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. لا تكون الملاحم إلا على يدي رجل من آل هرقل
بڑی جنگیں آلِ ہرقل (رومیوں) کے ایک شخص کے ہاتھوں ہوں گی
حدیث نمبر: 8637
حدثنا محمد، حدثنا بحر، حدثنا ابن وهب، أخبرنا معاوية بن صالح، عن صفوان بن عمرو، أنه سمع أبا مريم مولى أبي هريرة يقول: مرَّ أبو هريرة بمروان وهو يَبْني داره التي وَسَط المدينة، قال: فجلستُ إليه والعمال يعملون، قال: ابنُوا شديدًا، وأَمِّلوا بعيدًا، وموتوا قريبًا، فقال مروان: إنَّ أبا هريرة ليُحِدِّثُ العمّال، فماذا تقول لهم يا أبا هريرة؟ قال: قلت: ابنوا شديدًا، وأمِّلوا بعيدًا، وموتوا قريبًا، يا معشر قريش - ثلاث مرّات. اذكروا كيف كنتم أمس وكيف أصبحتم اليومَ تُخدمون، أرقَّاؤكم فارسُ والرّومُ، كلوا خبزَ السَّمِيذ، واللحمَ السَّمين، لا يأكُل بعضُكم بعضًا، ولا تَكادَمُوا تكادُمَ البراذين، وكونوا اليومَ صغارًا تكونوا غدًا كبارًا، والله لا يرتفعُ منكم رجلٌ درجةً إِلَّا وَضَعَه الله يوم القيامة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8431 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8431 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ کے غلام ابومریم بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس سے گزرے، وہ مدینہ کے درمیان میں اپنا محل بنوا رہا تھا، آپ فرماتے ہیں: میں اس کے پاس بیٹھ گیا، مزدور کام کر رہے تھے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مضبوط عمارت بناؤ، دور کی امید رکھو، اور بہت جلد مر جاؤ، مروان نے کہا: ابوہریرہ مزدوروں کو حدیثیں سنا رہا ہے، اے ابوہریرہ تم ان کو کیا کہہ رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں ان کو کہہ رہا ہوں: اے معشر قریش محل مضبوط بناؤ، امیدیں دور دور کی رکھو، اور مر جلدی جاؤ۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر فرمایا: تم یاد کرو، تم کل کیسے تھے اور تم آج کیسے ہو چکے ہو؟ تم اپنے غلاموں فارس اور روم کی خدمتیں کر رہے ہو، میدے کی روٹی کھاؤ، چربی والا گوشت کھاؤ، تم ایک دوسرے کو نہیں کھاؤ گے۔ اور ترکی گھوڑے کی طرح بھاگتے مت پھرو، تم آج چھوٹے رہو، کل بڑے ہو جاؤ گے، اللہ کی قسم! تم دنیا میں جتنے درجے بلند ہوتے ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں اتنا ہی گرا دے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8637]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8637 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرج ابن أبي الدنيا في "قصر الأمل" (259) من طريق عوف الأعرابي، عن أبي السَّليل ضريب بن نُقير قال: وقف أبو هريرة على مروان وهو يبني بيتًا له، فقال: السلام عليك يا أبا عبد القُدُّوس، ابنوا شديدًا، وأمِّلوا بعيدًا، واحيوا قليلًا، وأَخضموا فسيُقضَم، والموعدُ الله. وإسناده منقطع، أبو السليل لم يسمع من أبي هريرة. وأخضِموا، أي: أكثروا ووسِّعوا.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی الدنیا نے "قصر الامل" (259) میں عوف اعرابی کے طریق سے ابو السلیل ضریب بن نقیر سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس کھڑے ہوئے جبکہ وہ اپنا گھر تعمیر کروا رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: "السلام علیک اے ابوعبدالقدوس! (تم عمارت) مضبوط بناؤ، امیدیں لمبی رکھو، (مگر یاد رکھنا) تم زندہ تھوڑا ہی رہو گے، اور (دنیا کا مال) خوب کھاؤ اور نگلو عنقریب تمہیں چبا لیا جائے گا (یا بدلہ لیا جائے گا)، اور وعدے کی جگہ اللہ کے پاس ہے"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند "منقطع" ہے، کیونکہ ابوالسلیل نے حضرت ابوہریرہ سے سماع نہیں کیا۔ 📝 نوٹ / توضیح: "أَخضموا" کا مطلب ہے: کثرت کرو اور وسعت اختیار کرو (یعنی خوب دنیا سمیٹو)۔
وتكادُم البراذين: عضُّ بعضها بعضًا، والبِرذَون من الخيل: ما ليس بعرابيٍّ.
📝 نوٹ / توضیح: "تکادم البراذین" کا مطلب ہے گھوڑوں کا ایک دوسرے کو دانتوں سے کاٹنا۔ "البرذون" ان گھوڑوں کو کہتے ہیں جو عربی النسل نہ ہوں۔