المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
54. وصية معاذ بن جبل عند الوفاة
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت کی وصیت
حدیث نمبر: 8646
أخبرنا الحسن بن حَليم (4) المروزي، حدثنا أبو نصر أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا أيوب، عن أبي قِلابة، عن يزيد بن عَمِيرة، عن معاذ بن جبل قال: تكون فتنةٌ يكثرُ فيها المالُ، ويُفتَح فيها القرآنُ حتى يقرأَه المؤمن والمنافق، والصغيرُ والكبير، والمرأةُ، يقرؤُه الرجلُ سرًا فلا يُتَّبَعُ عليها، فيقول: والله لأقرأَنَّه علانيَةً، ثم يقرؤُه علانيةً فلا يُتَّبَعُ عليها، فيتَّخِذُ مسجدًا ويبتدعُ كلامًا ليس في كتاب الله ولا من سنّة رسول الله ﷺ، فإيَّاكم وإيَّاه، فإِنَّ كُلَّ مَا ابْتَدَعَ ضلالةٌ قالَها. قال: ولما مَرِضَ معاذُ بن جبل مَرَضَه الذي قُبِضَ فيه، كان يُغشَى عليه أحيانًا ويُفيق أحيانًا، حتى غُشِيَ عليه غَشْيةً ظننَّا أنه قد قُبِضَ، ثم أفاق وأنا مُقابله أبكي، فقال: ما يبكيك؟ قلت: والله لا أبكي على دنيا كنت أنالُها منك، ولا على نسبٍ بيني وبينك، ولكن أبكي على العِلْم والحِلْم الذي أسمعُ منك يذهبُ، قال: فلا تبكِ، فإنَّ العلم والإيمان مكانَهما، من ابتغاهما وَجَدَهما، فابتَغِهِ حيث ابتغاهُ إبراهيم ﵇، فإنه سأل الله وهو لا يعلمُ - وتلا: ﴿إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ﴾ [الصافات: 99] - وابْتَغِهِ بعدي عند أربعة نفرٍ، وإن لم تَجِده عند واحدٍ منهم فسائرُ الناس أَعْيا به؛ عبدُ الله بن مسعود وعبدُ الله بن سَلَام وسلمانُ وعُويمرٌ أبو الدرداء. وإيّاكَ وزَيْغةَ الحكيم وحُكم المنافق، قال: قلت: وكيف لي أن أعلم زيغةَ الحكيم وحُكمَ المنافق؟ قال: كلمةُ ضلالةٍ يُلقيها الشيطانُ على لسان الرجل، فلا تَحْمِلْها ولا تَتَأمَّل منه، فإنَّ المنافق قد يقول الحقَّ، فخُذِ العِلمَ أَنَّى جَاءَك، فإنَّ على الحقِّ نورًا، وإيّاكَ ومُعضلاتِ الأمور (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8440 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8440 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک ایسا فتنہ ائے گا جس میں مال بہت زیادہ ہو جائے گا، قرآن بہت کھولا جائے گا، حتی کہ مومن، منافق، چھوٹا، بڑا، مرد اور عورت سب قرآن پڑھیں گے، ایک آدمی پوشیدہ طور قرآن پڑھے گا، اس پر اس کی پیروی نہیں کی جائے گی، وہ کہے گا: اللہ کی قسم! اب میں اس کو اعلانیہ پڑھوں گا، پھر وہ اس کو اعلانیہ پڑھے گا، لیکن اب بھی اس کی کوئی پیروی نہیں کی جائے گی، وہ ایک مسجد بنائے گا، اور ایسی باتیں گھڑے گا جو نہ کتاب اللہ میں ہوں گی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہوں گی، ان سے بچ کر رہنا، کیونکہ ہر وہ چیز جو نئی گھڑی جائے (جس کی اصل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں موجود نہ ہو) وہ گمراہی ہے۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ان پر وقفے وقفے سے غشی طاری ہوتی تھی، پھر ان پر غشی کا ایسا دورہ پڑا کہ ہم سمجھے کہ ان کی روح پرواز کر گئی ہے، لیکن ان کو ایک بار پھر افاقہ ہوا، اس وقت میں ان کے سامنے رو رہا تھا، آپ نے فرمایا: روؤ مت۔ کیونکہ علم اور ایمان ایک ہی جگہ ہوتے ہیں، جو ان کو تلاش کرتا ہے وہ ان کو پا لیتا ہے، اس لئے اس کو وہاں تلاش کرو جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تلاش کیا تھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا، اور آپ نہیں جانتے تھے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ اور میرے بعد چار لوگوں کے پاس علم تلاش کرنا وہ چار افراد یہ ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عویمر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ۔ حکیم کی خطا سے اور منافق کے فیصلے سے بچنا۔ میں نے کہا: مجھے کیسے پتا چلے گا کہ حکیم بھی خطا کر گیا ہے، آپ نے فرمایا: گمراہی کی بات شیطان کسی آدمی کی زبان پر جاری کر دیتا ہے، بندہ نہ اس بات کو سنبھالتا ہے اور نہ ہی وہ اس میں کوئی غور و فکر کرتا ہے، کیونکہ منافق بھی سچی بات کہہ دیتا ہے، اس لئے تم علم لے لو، جہاں سے بھی ملے، کیونکہ حق کا اپنا ایک نور ہوتا ہے، اور تم پیچیدہ امور سے بچ کر رہنا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8646]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8646 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل سعيد بن هبيرة، فقد قال فيه أبو حاتم الرازي: ليس بالقوي، واتهمه ابن حبان في "المجروحين"، لكن لم ينفرد به.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے، مگر یہ سند "سعید بن ہبیرہ" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ ابوحاتم رازی نے ان کے بارے میں کہا: "وہ قوی نہیں ہیں"، اور ابن حبان نے "المجروحین" میں ان پر الزام لگایا ہے، لیکن وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہیں۔
فقد تابعه أسد بن موسى عند ابن وضاح في "البدع والنهي عنها" (63)، وأحمد بن يحيى بن حميد الطويل عند الطبراني في "الكبير" 20/ (227)، كلاهما عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: چنانچہ اسد بن موسیٰ نے (ابن وضاح کی "البدع" 63 میں) اور احمد بن یحییٰ بن حمید طویل نے (طبرانی کی "الکبیر" 20/ 227 میں) ان کی متابعت کی ہے، یہ دونوں اسے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وكلاهما رواه مختصرًا دون قصة مرض معاذ. وقد سلف بطوله بنحوه عند المصنف برقم (8628) من حديث الزهري عن أبي إدريس الخولاني عن يزيد بن عميرة، وإسناده صحيح. لكن ليس فيه قصة وصاة معاذ بالأربعة النفر المذكورين، وقد سلفت هذه القصة عنده برقم (338) و (5264) من حديث ربيعة بن يزيد عن أبي إدريس عن يزيد بن عميرة، وإسنادها صحيح أيضًا.
🧾 تفصیلِ روایت: ان دونوں نے اسے مختصراً روایت کیا ہے جس میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی بیماری کا قصہ نہیں ہے۔ یہ حدیث زہری عن ابی ادریس خولانی عن یزید بن عمیرہ کے طریق سے پوری تفصیل کے ساتھ مصنف کے ہاں (8628) پر گزر چکی ہے اور اس کی سند "صحیح" ہے۔ لیکن اس میں ان چار افراد کے بارے میں حضرت معاذ کی وصیت کا قصہ نہیں ہے، البتہ یہ قصہ مصنف کے ہاں (338) اور (5264) پر ربیعہ بن یزید عن ابی ادریس عن یزید بن عمیرہ کے واسطے سے گزر چکا ہے اور اس کی سند بھی "صحیح" ہے۔
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حكيم.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حکیم" لکھا گیا ہے۔