🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. وَصِيَّةُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عِنْدَ الْوَفَاةِ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت کی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8645
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الملك بن قُدامة الجُمحي، عن إسحاق بن بكر أبي (1) الفُرَات، عن سعيد بن أبي سعيد المقبُري، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"تأتي على الناس سنواتٌ خدَّاعاتٌ (2) ، يُصدَّق فيها الكاذبُ ويُكذَّبُ فيها الصادقُ، ويُؤتَمَنُ فيها الخائنُ ويُخوَّنُ فيها الأمين، ويَنطِقُ فيهم الرُّوَيْبِضةُ" قيل: يا رسول الله، وما الرُّويبضة؟ قال:"الرجلُ التافه يتكلَّم في أمرِ العامَّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8439 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر کچھ سال ایسے آئیں گے کہ اس میں جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا، اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا، خائن لوگوں کے پاس امانتیں رکھی جائیں گی، اور امانتداروں کو خائن قرار دیا جائے گا، اور ان میں رویبضہ باتیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رویبضہ کس کو کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خسیس قسم کے لوگ عوام الناس کے معاملات میں گفتگو کریں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8645]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8646
أخبرنا الحسن بن حَليم (4) المروزي، حدثنا أبو نصر أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا أيوب، عن أبي قِلابة، عن يزيد بن عَمِيرة، عن معاذ بن جبل قال: تكون فتنةٌ يكثرُ فيها المالُ، ويُفتَح فيها القرآنُ حتى يقرأَه المؤمن والمنافق، والصغيرُ والكبير، والمرأةُ، يقرؤُه الرجلُ سرًا فلا يُتَّبَعُ عليها، فيقول: والله لأقرأَنَّه علانيَةً، ثم يقرؤُه علانيةً فلا يُتَّبَعُ عليها، فيتَّخِذُ مسجدًا ويبتدعُ كلامًا ليس في كتاب الله ولا من سنّة رسول الله ﷺ، فإيَّاكم وإيَّاه، فإِنَّ كُلَّ مَا ابْتَدَعَ ضلالةٌ قالَها. قال: ولما مَرِضَ معاذُ بن جبل مَرَضَه الذي قُبِضَ فيه، كان يُغشَى عليه أحيانًا ويُفيق أحيانًا، حتى غُشِيَ عليه غَشْيةً ظننَّا أنه قد قُبِضَ، ثم أفاق وأنا مُقابله أبكي، فقال: ما يبكيك؟ قلت: والله لا أبكي على دنيا كنت أنالُها منك، ولا على نسبٍ بيني وبينك، ولكن أبكي على العِلْم والحِلْم الذي أسمعُ منك يذهبُ، قال: فلا تبكِ، فإنَّ العلم والإيمان مكانَهما، من ابتغاهما وَجَدَهما، فابتَغِهِ حيث ابتغاهُ إبراهيم ﵇، فإنه سأل الله وهو لا يعلمُ - وتلا: ﴿إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ﴾ [الصافات: 99] - وابْتَغِهِ بعدي عند أربعة نفرٍ، وإن لم تَجِده عند واحدٍ منهم فسائرُ الناس أَعْيا به؛ عبدُ الله بن مسعود وعبدُ الله بن سَلَام وسلمانُ وعُويمرٌ أبو الدرداء. وإيّاكَ وزَيْغةَ الحكيم وحُكم المنافق، قال: قلت: وكيف لي أن أعلم زيغةَ الحكيم وحُكمَ المنافق؟ قال: كلمةُ ضلالةٍ يُلقيها الشيطانُ على لسان الرجل، فلا تَحْمِلْها ولا تَتَأمَّل منه، فإنَّ المنافق قد يقول الحقَّ، فخُذِ العِلمَ أَنَّى جَاءَك، فإنَّ على الحقِّ نورًا، وإيّاكَ ومُعضلاتِ الأمور (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8440 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک ایسا فتنہ ائے گا جس میں مال بہت زیادہ ہو جائے گا، قرآن بہت کھولا جائے گا، حتی کہ مومن، منافق، چھوٹا، بڑا، مرد اور عورت سب قرآن پڑھیں گے، ایک آدمی پوشیدہ طور قرآن پڑھے گا، اس پر اس کی پیروی نہیں کی جائے گی، وہ کہے گا: اللہ کی قسم! اب میں اس کو اعلانیہ پڑھوں گا، پھر وہ اس کو اعلانیہ پڑھے گا، لیکن اب بھی اس کی کوئی پیروی نہیں کی جائے گی، وہ ایک مسجد بنائے گا، اور ایسی باتیں گھڑے گا جو نہ کتاب اللہ میں ہوں گی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہوں گی، ان سے بچ کر رہنا، کیونکہ ہر وہ چیز جو نئی گھڑی جائے (جس کی اصل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں موجود نہ ہو) وہ گمراہی ہے۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ان پر وقفے وقفے سے غشی طاری ہوتی تھی، پھر ان پر غشی کا ایسا دورہ پڑا کہ ہم سمجھے کہ ان کی روح پرواز کر گئی ہے، لیکن ان کو ایک بار پھر افاقہ ہوا، اس وقت میں ان کے سامنے رو رہا تھا، آپ نے فرمایا: روؤ مت۔ کیونکہ علم اور ایمان ایک ہی جگہ ہوتے ہیں، جو ان کو تلاش کرتا ہے وہ ان کو پا لیتا ہے، اس لئے اس کو وہاں تلاش کرو جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تلاش کیا تھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا، اور آپ نہیں جانتے تھے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ اور میرے بعد چار لوگوں کے پاس علم تلاش کرنا وہ چار افراد یہ ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عویمر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ۔ حکیم کی خطا سے اور منافق کے فیصلے سے بچنا۔ میں نے کہا: مجھے کیسے پتا چلے گا کہ حکیم بھی خطا کر گیا ہے، آپ نے فرمایا: گمراہی کی بات شیطان کسی آدمی کی زبان پر جاری کر دیتا ہے، بندہ نہ اس بات کو سنبھالتا ہے اور نہ ہی وہ اس میں کوئی غور و فکر کرتا ہے، کیونکہ منافق بھی سچی بات کہہ دیتا ہے، اس لئے تم علم لے لو، جہاں سے بھی ملے، کیونکہ حق کا اپنا ایک نور ہوتا ہے، اور تم پیچیدہ امور سے بچ کر رہنا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8646]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں