المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. حكاية امرأة شلت يدها فى المنام
ایک ایسی عورت کا قصہ جس کا ہاتھ خواب میں شل (بیکار) ہو گیا تھا
حدیث نمبر: 8661
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن صالح، عن ابن شهاب قال: قال أبو إدريس عائذُ الله الخَوْلاني: سمعت حذيفة يقول: والله إني لأعلمُ الناس بكل فتنةٍ هي كائنةٌ فيما بيني وبين الساعة، وما ذاك أن يكون حدَّثني رسولُ الله ﷺ بها من شيءٍ لم يُحدث بها غيري، ولكنَّ رسول الله ﷺ قال - وهو يحدِّث مجلسًا أنا فيه عن الفتن - وهو يَعُدُّ الفتن:"فيهنَّ ثلاثٌ لا يَذَرْنَ شيئًا، منهنَّ كرياح الصيف، منها صغار ومنها كبار"، فذهب أولئك الرَّهْطُ كلُّهم غيري (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8454 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8454 - على شرط البخاري ومسلم
عائذ اللہ خولانی سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! آج سے لے کر قیامت تک آنے والے فتنوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم میں رکھتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں مجھے بتاتے تھے وہ کسی اور کو نہیں بتاتے تھے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں فتنوں کے بارے میں گفتگو فرمائی، اس مجلس میں، میں بھی موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے فتنے شمار کروائے، اور ان میں کوئی بھی چچوڑ نہیں، مثلا گرم ہوا کا چلنا، چھوٹے فتنوں کا بھی ذکر کیا اور بڑے فتنوں کا بھی۔ اس مجلس میں جتنے بھی لوگ موجود تھے، وہ سب فوت ہو گئے ہیں، صرف میں زندہ ہوں۔ (اس لئے میں نے کہا ہے کہ فتنوں کے بارے میں آج مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8661]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8661 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. صالح هو ابن كيسان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ صالح سے مراد "ابن کیسان" ہیں۔
وأخرجه أحمد 38 / (23291) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23291) نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (23292) عن فزارة بن عمر، عن إبراهيم بن سعد، به.
📖 حوالہ / مصدر: نیز احمد (23292) نے فزارہ بن عمر عن ابراہیم بن سعد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد كذلك (23460) من طريق شعيب بن أبي حمزة، ومسلم (2891) (22) من طريق يونس بن يزيد الأيلي، وابن حبان (6637) من طريق عبد الرحمن بن إسحاق المدني، ثلاثتهم عن ابن شهاب الزهري، به - إلّا أنَّ رواية عبد الرحمن بمعناه. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23460) نے شعیب بن ابی حمزہ کے طریق سے، مسلم (2891/ 22) نے یونس بن یزید ایلی کے طریق سے اور ابن حبان (6637) نے عبدالرحمن بن اسحاق مدنی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں، البتہ عبدالرحمن کی روایت "باللمعنیٰ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث پر استدراک کرنا (یہ کہنا کہ شیخین نے نہیں لی) ان کا "ذہول" (بھول) ہے (کیونکہ یہ مسلم میں موجود ہے)۔
وانظر ما سيأتي عند المصنف برقم (8664) و (8709).
📖 حوالہ / مصدر: مزید دیکھیے جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (8664) اور (8709) پر آئے گا۔